ضم اضلاع : زچہ بچہ کے تحفظ کے لئے ’ماشوم صحت ایپلی کیشن‘ کا اجراء

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

ضم شدہ علاقوں میں حاملہ خواتین اور خاندان کے سربراہوں کو ماؤں اور بچوں کی صحت کے حوالے سے آگاہی دینے اور انہیں قریبی طبی مراکز سے منسلک کرکے وہاں دستیاب سہولیات سے استفادہ کرنے کیلئے حکومت خیبر پختونخوا نے ماشوم صحت ایپلی کیشن کا اجراء کردیا۔

یہ اقدام حکومت کی جانب سے ضم شدہ علاقوں میں دوران زچگی ماؤں اور بچوں کی اموات کی شرح میں کمی کیلئے ترتیب دیے گئے اسپیشل امفیسیز پروگرام کا حصہ ہے، جو کہ یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) کے مرجڈ ایریاز گورننس پراجیکٹ (ایم اے جی پی) کی تکنیکی معاونت سے تشکیل دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر انفامیشن ٹیکنالوجی عاطف خان نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال ہماری روزمرہ زندگیوں کا حصہ بن چکا ہے.

ضم شدہ علاقوں میں لوگوں تک رسائی اور انہیں بنیادی صحت اور دیگر خدمات کے نظام سے منسلک کرنے کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی بالخصوص موبائل فون کا استعمال نہایت کارآمد ثابت ہوگا۔

یادرہے کہ ضم شدہ اضلاع پاکستان اور دنیا بھر میں زچگی کے دوران حاملہ ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی اموات کی بلند شرح رکھنےوالے علاقوں میں شامل ہیں.

خیبر پختونخوا کےدیگر علاقوں کی بہ نسبت ضم شدہ علاقوں میں ماؤں کی اموات کی شرح 140 فیصد اور نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح 60 فیصد زیادہ ہے۔ 50 فیصد خواتین ہی پیشہ ورانہ مہارت کے حامل اور تربیت یافتہ طبی عملے کی نگرانی میں بچے جنم دیتی ہیں ۔

اس صورتحال میں بہتری کیلئےحکومت متعلقہ خاندانوں کے ساتھ رابطوں ، انہیں حاملہ ماؤں کی صحت اور تحفظ کے پیش نظر آگاہی دینے ، ان کے اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز اور طبی مراکز کے درمیان رابطے مستحکم کرنے کیلئے کام کررہی ہے ۔

کے پی آئی ٹی بورڈ کے مینجنگ ڈائرکٹر ڈاکٹر علی محمود نے کہا کہ ماشوم صحت ایپلی کیشن سے حاملہ خواتین اور ان کے خاندانوں کو صحت کے نظام سےبھرپور طور پر استفادہ کرنے میں مدد لے گی ۔

خاندان کے سربراہ کو حاملہ خاتون کی دیکھ بال اور انہیں باقاعدگی سے قریبی صحت مراکز معائنے کیلئے لیجانے کے حوالے سے پیغامات وصول ہوں گے اور انہیں تربیت یافتہ طبی عملے کی زیرنگرانی بچوں کی پیدائش کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کیا جائےگا۔

ڈاکٹر اکرام اللہ خان، چیف ہیلتھ سروسز ریفارمز یونٹ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں اصلاحات کا بڑا حصہ ماؤں اور بچوں کی صحت اور حفاظت کو پیش نظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے ، لوگوں تک رسائی کیلئے صحت کی خدمات کی ڈیجیٹائزیشن وقت کی ضرورت ہے۔

یو این ڈی پی پاکستان کی جانب سےبات کرتے ہوئے ایم اے جی پی کی پروگرام مینجر رالوکا ایڈن نے کہا کہ ترقی کے عمل میں سب کی شمولیت کے فروغ کیلئے ہم نے اس ایپلی کیشن کی مدد سےخواتین کیلئے ایسا نظام ترتیب دیا ہے کہ انہیں بہترین طبی مراکز میں پیشہ ورانہ مہارت کے حامل عملے کے زیرنگرانی بروقت دیکھ بال کی سہولت میسر آسکے تاکہ وہ زچگی کے دوران پیچیدگیوں سے بہتر طور پر نمٹا جاسکے ۔

موبائل فونز کی مدد سے ہم ان کیلئے مفید معلومات ان کے گھروں تک پہنچا رہے ہیں تاکہ وہ حمل کے دوران بہتر طور پر آگاہ رہ سکیں۔

انہوں نےکہا کہ ایپلی کیشن اس وقت آزمائشی مرحلے میں ہے، جس کے بعد ایم اے جی پی (یو این ڈی پی) کی طرف سے حکومت کو مزید پالیسی تجاویز دی جائیں گی تاکہ صحت کے موجودہ نظام کو مزید مستحکم اور خدمات کے معیار کو بہتر کرکے ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جاسکیں۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نےقبائلی ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں احساس نشوونما پروگرام کا افتتاح کردیا تھا جس کے تحت حاملہ اور دودھ پلانیوالی ماؤں اور چھ ماہ سے دو سال کی عمر تک کے بچوں کیلئے صحت بحش اضافی غذا کے ساشے مفت تقسیم کئے جائیں گے اور انہیں سہ ماہی وظیفہ بھی دیا جائیگا۔