تحریک طالبان پاکستان کیخلاف آپریشن کی تیاری؟

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وطن عزیز پاکستان کے مختلف شہروں بالخصوص قبائلی اضلاع میں گذشتہ چند ماہ کے دوران دہشتگردی کے واقعات تسلسل کیساتھ رونماء ہو رہے ہیں، جن میں متعدد شہریوں سمیت سکیورٹی فورسز کے اہلکار جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔

اس حوالے سے اطلاعات یہ سامنے آرہی تھیں کہ دہشتگرد افغانستان سے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں داخل ہوتے ہیں، جبکہ پاکستان کے قبائلی اضلاع میں بھی اکثر دہشتگردوں کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں، جس کی بنیاد پر سکیورٹی اداروں کی جانب میں ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں ممکنہ طور پر فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان میں اکثریت محسود قبائل کی ہے جبکہ تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے بھی یہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ اس میں دہشتگردوں کی اکثریت کا تعلق محسود قبائل سے ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان کے مکینوں کو تحریک طالبان کیخلاف فوجی آپریشن کے لیے علاقہ خالی کرنے کا کہا گیا تھا۔

مقامی صحافی دلاور خان وزیر کے مطابق دو روز قبل اس صورتحال کے تناظر میں ٹانک میں جنوبی وزیرستان کے محسود قبائل کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جو صبح سے شام تک جاری رہا، جرگہ میں قبائلی مشران، علماء، بڑی تعداد میں محسود قبائل کے نوجوانوں نے شرکت کی اور کسی ممکنہ فوجی آپریشن کو ایک ماہ تک روکنے کا مطالبہ کیا۔

جرگہ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور حکومت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کریں گے، تاہم وہ ممکنہ فوجی آپریشن کے لیے علاقہ خالی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اس موقع پر ایک 33 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جو ٹی ٹی پی اور حکومت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے گی۔ ذرائع کے مطابق محسود قبائل کی جانب سے چھ رکنی کمیٹی کے ذریعے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ پہلے ہی سے جاری ہے اور اب کمیٹی میں اضافہ کرکے اس کے ارکان کو 33 کر دیا گیا ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے بانی سربراہ بیت اللہ کا تعلق بھی محسود قبائل سے تھا، جبکہ اس کا جانشین حکیم اللہ بھی اسی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا، علاوہ ازیں ٹی ٹی پی میں سب سے زیادہ تعداد محسود قبائل کے جنگجووں کی ہی شمار کی جاتی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ اس وقت افغانستان میں موجود ہے، جہاں پاکستان سے تعلق رکھنے والے بعض قبائلی مشران اور افغان طالبان کے رہنماء ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائل رہنماء اور سابق سینیٹر صالح شاہ محسود بھی ٹی ٹی پی رہنماوں کیساتھ مذاکراتی عمل میں شریک ہیں، اس جرگہ کے تناظر میں ان کا بیان سامنے آیا ہے کہ وہ بات چیت کے سلسلے میں چار مرتبہ افغانستان میں تحریک طالبان کے کمانڈروں سے ملے ہیں اور مذاکرات کا سلسلہ توڑا نہیں بلکہ بدستور جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رمضان سے پہلے شوال میں فورسز پر ایک حملے کے بعد فوج نے تین مقامات کو خالی کرنے کا بتایا تھا، جس پر محسود قبائل نے عیدالفطر تک کارروائی نہ کرنے کی مہلت مانگ لی تھی، جس پر بقول ان کے فوج رضامند ہوگئی تھی۔

مقامی ذرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان کے تین مختلف علاقوں مندیچ، مکین اور شول میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کے خلاف دوبارہ فوجی آپریشن کے لیے لوگوں کو علاقہ خالی کرنے کا کہا گیا ہے۔

یقینی طور پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے جنوبی وزیرستان میں ممکنہ آپریشن کی تیاریوں کے تناظر میں ہی مقامی قبائل کو علاقہ خالی کرنے کا کہا گیا ہے، تاہم محسود قبائل کی جانب سے اس حوالے سے انکار اور مذاکراتی عمل میں ثالثی کی پیشکش اس آپریشن میں کچھ وقت کیلئے تاخیر کا باعث بن سکتے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق فورسز یا مقامی انتظامیہ کی جانب سے اب تک اس حوالے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے کہ وہ محسود قبائل کے جرگے کے فیصلے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ افواج پاکستان کی جانب سے میڈیا کے نمائندوں کو دورہ شمالی وزیرستان کے دوران بتایا گیا تھا کہ پاکستانی علماء، جرگہ اور مقامی رہنماؤں پر مشتمل وفود نے افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مقامی قبائلی مشران کا کردار انتہائی اہم رہا ہے، لہذا عین ممکن ہے کہ حکومت جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع کرنے کے حوالے سے انتہائی محتاط رہے اور فوری طور پر ایسے کسی اقدام سے گریز کیا جائے، جس سے فورسز اور قبائلی مشران کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوں۔

تاہم دہشتگردوں کی بڑھتی سرگرمیوں اور دہشتگردی کے پے در پے واقعات کو دیکھا جائے تو فورسز کی کارروائی قیام امن کیلئے انتہائی اہم ہے۔ مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں، تاہم ان کے کوئی نتائج دیکھنے کو نہیں ملے۔

لہذا اب وقت آگیا ہے کہ قبائل مشران، خاص طور پر محسود قبائل اپنے اندر موجود دہشتگردوں کو خود سے الگ کریں، ملک میں دیرپا قیام امن کیلئے سکیورٹی فورسز کا ساتھ دیں اور اپنے قبیلہ پر دہشتگردی کا لیبل لگنے سے بچائیں۔