یہ وزیراعظم ریجیکٹڈ ہے

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ہم جو مقصد لیکر آئے ہیں، ہم اس کے قریب تر ہوتے جارہے ہیں، حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس ہوا اور سب نے آزادی مارچ کو خوبصورت الفاظ میں پذیرائی بخشی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کا آزادی مارچ 5 روز سے اسلام آباد کے ایچ نائن گراؤنڈ میں موجود ہے۔

آزادی مارچ کے شرکاء سے پانچویں روز خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے یقین دلایا ہے کہ اس محاذ پر جمعیت علمائے اسلام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور قدم بہ قدم ساتھ چلیں گے، آج آزادی مارچ کے ساتھ سیاسی جماعتوں کی وابستگی کے بارے میں جو شکوک و شبہات اور افواہیں تھیں، وہ بھی دم توڑ گئی ہیں۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ہم نے اگلے مراحل تک جانا ہے، کل آپ مایوس ہورہے تھے تو آج اپوزیشن جماعتوں نے حوصلہ دیا ہے، تمام جماعتوں کی قیادت نے کہا ہے کہ اس اجتماع کے اٹھنے کا فیصلہ متفقہ کریں گے۔

اس دوران اسٹیج سے گو سلیکٹڈ گو کے نعرے لگائے گئے تو مولانا فضل الرحمان نے ٹوکتے ہوئے کہا کہ ’اب معاملہ سلیکٹڈ سے آگے نکل گیا ہے اور یہ وزیراعظم ریجیکٹڈ ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو قرضوں میں جکڑ لیا ہے اور اب ہماری معیشت مکمل طور پر آئی ایم ایف کے ہاتھ میں ہے، خارجہ پالیسی ناکام اور داخلی طور پر پاکستان غیر مستحکم ہے۔

خیال رہے کہ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے یکم نومبر جمعے کی شام وزير اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کیلئے 48 گھنٹوں کی مہلت دی تھی جو اتوار کی شام ختم ہوچکی ہے تاہم وزیراعظم مستعفی نہیں ہوئے۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری شجاعت اور اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں آزادی مارچ، ملکی سیاسی صورت حال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

مولانا سے ملاقات سے قبل مختصر گفتگو کرتے ہوئے پرویز الٰہی نے کہا کہ ہم مفاہمت کے لیے آئے ہیں، مفاہمت سے ہی راستہ نکلے گا، وزیراعظم نے کل حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو بلایا ہے، وزیراعظم کو تمام صورتحال سے کل آگاہ کریں گے۔

ادھر حکومتی کمیٹی اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے گھر پر ملاقات ہوئی۔

ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کے درمیان مذاکرات میں وزیراعظم کے استعفے پر پہلی بار بات ہوئی۔

مذاکرات میں دونوں جانب سے مطالبات سامنے رکھے گئے جس پر اعلیٰ قیادت سے مشاورت کے بعد دوبارہ ملاقات پر اتفاق کیا گیا۔