قدیم ارمڑ زبان کی تحفظ اور ترقی کے لیے قومی کانفرنس کا انعقاد

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ڈیرہ اسماعیل خان میں خیبرپختونخوا کے قدیم ارمڑ زبان و ثقافت کی تحفظ و ترقی کے لیے دو روزہ قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے۔

پشتواکیڈیمی پشاور یونیورسٹی اور ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ حکومت خیبرپختونخوا کے اشتراک سے منعقد کئے گئے اس کانفرنس کی افتتاحی تقریب گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں ہوئی۔

اس موقع پر پشتو اکیڈیمی کےڈائریکٹر پروفیسرڈاکٹر نصراللہ جان وزیر نےکہا کہ پشتو اکیڈیمی کے بنیادی مقاصد میں زبانوں کی ترقی و ترویج شامل ہے، ارمڑ زبان اس خطے کی ایک اہم اور تاریخی زبان ہے جسکی تحفظ ہمارے بنیادی مقاصد کا حصہ ہے۔

انہوں نےکہاکہ ہائیرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مشکورہیں کہ انکی مدد سے ہم اس قابل ہے کہ زبان اور ثقافت کے فروغ کے لئے ہم عملی اقدامات کررہے ہیں، انہوں نےکہا کہ ارمڑ زبان کی ایک تاریخی پہلو یہ ہے کہ پختونخوا کا ہیرو بایزید پیروخان بھی ارمڑ زبان سے وابستہ تھے ان کاکہناتھاکہ  شکر ہے کہ ارمڑ جماعت پنجم تک بھی پڑھائی جاتی ہے جو کہ ایک اہم کامیابی ہے۔

مصنف ماہر زبان اور سابق ایف بی آر ڈائریکٹر روزی خان نے کانفرنس کے انعقاد کو خوش آئند قراردیا اور ارمڑ زبان کے سکرپٹ اور دیگر پہلووں پرتفصیلی بحث کیا۔

گومل یونیورسٹی کے سابق رجسٹرار عالم محسود نے کانفرنس کو ارمڑ زبان کی ترقی کے لئے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنت کی نمائندگی پر اکبر ہوتی ایڈوکیٹ نےکہا کہ ہایئر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی کوشش ہے کہ وہ خیبرپختونخوا کے تمام زبانوں کی ترقی میں کردار ادا کریں، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے ممبر ملک کی حیثیت سے یونیسکو کنونشن پر دستخط کیا ہے اور اسے اپنے لئے لازمی قراردیا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہائیر ایجوکیشن اور پشتو اکیڈیمی مشترکہ طور پر پختونخوا کے تمام زبان و ثقافت بشمول ارمڑ زبان  و ثقافت کی ترقی و ترویج کے لئے صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دیں اور اس سلسلے میں اہم کردارادا کریں۔