صوبایی حکومت ضم شدہ اضلاع میں سرکاری دفاتر قائم کرنے میں ناکام

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

سابق فاٹا یا قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا میں انضمام کو ایک برس گزرنے کے باوجود 3 قبائلی اضلاع میں ڈپٹی کمشنر، عدلیہ اور پولیس جیسے اہم سرکاری دفاتر اب تک منتقل نہیں کیے جاسکے۔

رپورٹ کے مطابق ماضی میں فاٹا کے نام سے معروف علاقہ 25 ویں آئینی ترمیم کے تحت جون 2018 میں خیبرپختونخوا کا حصہ بنا تھا اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت نے 3 قبائلی اضلاع جنوبی وزیرستان، اورکزئی اور خیبر کے ڈپٹی کمشنرز کو رواں برس 30 جون کو اپنے دفاتر منتقل کرنے اور اس کے ساتھ اپنے متعلقہ علاقوں میں محکموں کا بندوبست کرنے کے لیے 3 ماہ کی مہلت دی تھی تاکہ وہاں کے عوام میں سے احساس محرومی ختم کیا جاسکے تاہم اس فیصلے کا اطلاق اب تک نہ ہوسکا۔

خیال رہے کہ ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنر کا دفتر جمرود یا ضلع کے کسی اور قابل رسائی مقام کے بجائے پشاور کنٹونمنٹ سے کام کرتا ہے، مزید یہ کہ خیبر کے عدالتی افسران پشاور کے علاقے حیات آباد میں قائم فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس میں اپنی عدالتیں لگاتے ہیں جبکہ مذکورہ ضلع کی پولیس نے اپنا مرکزی دفتر پولیس لائن پشاور میں بنا رکھا ہے۔

دوسری جانب جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر وانا سے 120 کلومیٹر دور ٹانک میں اپنا دفتر قائم کر کے ضلع کے امور چلارہے ہیں۔

اسی طرح ضلع اورکزئی کا انتظامی مرکز کلایہ ہے لیکن اس کے ڈپٹی کمشنر ضلع ہنگو میں بیٹھ کر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں جبکہ ذرائع کے مطابق جوڈیشل افسران کی عدالتیں بھی ہنگو میں کیسز کی سماعت کرتی ہیں۔ ادھر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کا دفتر، کمیونکیشن اینڈ ورکس، صحت، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، زراعت اور محکمہ جنگلات کے دفاتر بھی ضلع ہنگو سے چلائے جارہے ہیں۔اس ضمن میں ایک مقامی شخص نے بتایا کہ ڈی پی او شاذ و نادر ہی علاقے کا دورہ کرتے ہیں۔