قبائلی اضلاع میں بجلی کے منصوبوں پر کام شروع کرنے کا فیصلہ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں بجلی کے نظام کیلئے انفراسٹرکچر کی ترقی کے منصوبوں پر کام کا رواں ماہ باضابطہ افتتاح کئے جانے کا امکان ہے جن کی تکمیل سے قبائلی اضلاع میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے سمیت صنعتوں کو درکار بجلی کی بلا تعطل فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

یہ منصوبے ضم شدہ اضلاع کیلئے دس سالہ ترقیاتی حکمت عملی اور سالانہ ترقیاتی پلان کے تحت شروع کئے جارہے ہیں۔

منصوبے کے تحت تمام قبائلی اضلاع اور ایف آرز میں 11 کلو وولٹ کے نئے 76 فیڈرزکی تعمیر اور 11 کلو وولٹ کے 59 فیڈرز کی بحالی سمیت دیہات کو بجلی کی فراہمی کیلئے نئی سکیمیں شروع کی جائیں گی۔

دس سالہ ترقیاتی پلان کے تحت بجلی کے منصوبوں کیلئے لاگت کا تخمینہ 2039 ملین روپے ہے جن میں سے 1431 ملین روپے ضلع باجوڑ، مہمند، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، خیبر، اورکزئی، کرم، ایف آر پشاور، ایف آر کوہاٹ، ایف آر بنوں، ایف آر لکی، ایف آر ڈی آئی خان اور ایف آر ٹانک میں ترقیاتی کاموں کیلئے جاری کردیے گئے ہیں۔

اسی طرح سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت دیہات کو بجلی کی فراہمی کی نئی سکیموں کیلئے 419 ملین روپے جاری کئے گئے ہیں جس کا مقصد تمام قبائلی اضلاع اور ایف آرز میں 440 دیہات کو بجلی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

نئے ضم شدہ اضلاع میں ٹیسکو کے منصوبوں کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے بجلی کی فراہمی کے منصوبوں پر ترقیاتی کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ گرڈ سٹیشنز، ٹرانسمیشن لائنز اور 11 کے وی فیڈرز کی اپ گریڈیشن کیلئے بھی ٹیسکو کو وسائل پہلے سے جاری کر دیے گئے ہیں۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ نئے اضلاع میں مقامی آبادی کو فوری ریلیف دینے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر ترقیاتی اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں جن میں ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقوں مکین اور تیارزہ میں بجلی کے نظام کی بحالی، ضلع باجوڑ میں 11 کے وی فیڈرز کی دو فیڈرز میں تقسیم اور 11 کے وی کے آٹھ فیڈرز کو 132 کے وی گرڈ سٹیشن کھر کے ساتھ منسلک کرنے جیسے کام شامل ہیں۔

اسی طرح 66 کلو وولٹ کھر باجوڑ گرڈ سٹیشن اور 66 کلو وولٹ کے جندولہ گرڈ سٹیشن کو 132 کلو وولٹ تک اپ گریڈ کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔

10 سالہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 3092.54 ملین روپے کی مجموعی لاگت میں سے 2164.78 ملین روپے جاری کر دیے گئے ہیں جو ضلع اورکزئی اور ضلع کرم میں صدہ، علی زئی، کلایہ اور غلجو کے علاقوں میں 66 کلو وولٹ کے گرڈ سٹیشنز کو 132 کلو وولٹ تک اپ گریڈ کرنے کیلئے استعمال کئے جائیں گے، ہر گرڈ سٹیشن 52 میگا وولٹ ایمپیئر بجلی ترسیل کرنے کی استعداد کا حامل ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ 845 ملین روپے کی تخمینہ لاگت سے شمالی مہمند میں 132 کلو وولٹ گرڈ سٹیشن بمعہ 132 کے وی ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر، میران شاہ گرڈ سٹیشن میں 10/13 میگا وولٹ ایمپیئر کے خراب ٹرانسفارمرز کی 40 میگا وولٹ ایمپیئر ٹرانسفارمرز سے تبدیلی، 132 کے وی سٹیشن رزمک میں 10/13 میگا وولٹ ایمپیئر کے ٹرانسفارمرز کی 40 میگاوولٹ ایمپیئر ٹرانسفارمرز سے تبدیلی، 132 کے وی باڑہ گرڈسٹیشن میں 40 میگا وولٹ ایمپیئر کے ایک اضافی ٹرانسفارمر بشمول ٹرانسفارمر Bay کی فراہمی کے منصوبے بھی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے گئے ہیں۔