طورخم بارڈر پر امیگریشن عملے کے 43 اہلکار فارغ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پاک افغان طورخم بارڈر پر امیگریشن عملے کے 43 عارضی اہلکاروں کو گھر بھیج دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق طورخم امیگریشن عملے کو فارغ کرنے کی وجہ سے لوگوں کا رش بہت بڑھ گیا ہے۔

طورخم بارڈر کراس کرنے والے مشکلات سے دوچارہو گئے اور لمبی لمبی قطاریں لگ گئی ہے۔ ملازمین نے حکومت سے مطالبہ کیا یے کہ ان کی نوکریاں بحال کی جائیں اور ان کو مستقل کیا جائے۔

فارغ کیے گئے ملازمین میں ابوبکر بھی شامل ہے ٹی این این کے ساتھ بات چیت کے دوران ان کا کہنا تھا کہ 2015 میں جون کے مہینے میں 20 افراد طورخم بارڈر پر امیگریشن کے لیے بھرتی کیے گئے جن میں سے کچھ افراد کو مستقل نوکری ملی تو انہوں نے یہ نوکری چھوڑ دی، اس کے بعد 2016 میں اشتہار کے بعد کچھ افراد بھرتی کئے گئے اور تعداد ایک بارپھر 20 تک پہنچ گئی اور وقتا فوقتا اور بھی لوگوں کو بھرتی کیا جاتا رہا اور موجودہ وقت تک تعداد 43 تک پہنچ گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2015 میں اس منصوبے کو آپریشنل یونٹ طورخم کا نام دیا گیا تھا جبکہ بعد میں اس کا نام تبدیل ہوگیا اور طورخم بارڈر منیجمنٹ سسٹم تھرو ایف آئی اے کردیا گیا، جب پراجیکٹ کا نام بدل دیا گیا تو اس میں نوکری کرنے والے کو بھی فارغ کردیا گیا جس نے بعد ہم عدالت گئے تو عدالت نے اس سٹاف کو بحال کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب گزشتہ شب یہ کہہ کر سب کو فارغ کردیا گیا کہ پراجیکٹ ختم ہوگیا ہے۔

انہوں نے اپیل کی ہے کہ مذکورہ سٹاف کو مستقل بنیادوں پر بھرتی کیا جائے تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی کے ساتھ ساتھ ان کی نوکری بھی بحال ہوسکیں۔