قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے 83 ارب روپے کا خطیر بجٹ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ جو کوئی بھی ملک و قوم کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے گا اس کا مقابلہ کرینگے، دیرپا ترقی اور خوشحالی کا راستہ امن سے نکلتا ہے، ہم اپنی آزادی اور امن کو ہر صورت میں قائم رکھیں گے، وزیراعظم عمران خان نے جس طرح کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر اٹھایا اس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، کشمیری مسلمانوں کے حق خود ارادیت پر سمجھوتہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے دورہ کے دوران کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا کہ قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے 83 ارب روپے کا خطیر بجٹ رکھا گیا ہے جو نئے اضلاع کیلئے صوبائی حکومت کی مخلصانہ سوچ کا عکاس ہے، 2 ارب 92 کروڑ روپے میران شاہ مارکیٹ کی زمین کے استعمال کی مد میں جاری کئے جاچکے ہیں، پیسکو کو بجلی کی بحالی کیلئے 6.9 ارب روپے فراہم کئے گئے ہیں، 197.978 ملین روپے کی لاگت سے شمالی وزیرستان کے گریوم ایریا کو بجلی کی ترسیل کا منصوبہ شروع ہے جس کے تحت گیارہ کلو وولٹ فیڈر کی تنصیب مکمل کر کے آج افتتاح کیا گیا ہے جس سے 50 دیہات مستفید ہونگے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ قبائلی عوام بھی ترقیاتی منصوبوں کیلئے اچھی سوچ رکھتے ہیں، صوبائی حکومت قبائلی عوام کو ترقی کے دھارے میں لانے کیلئے خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے اور یقین دلاتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام کے حوالے سے تمام اعلانات کو عملی جامہ پہنایا جائے گا، ہم نے اپنے بچوں کے ہاتھوں سے بندوقیں لے کر قلم دینا ہے۔

محمود خان نے کہا کہ اب قبائلی اضلاع کے نمائندے صوبائی اسمبلی میں موجود ہیں جو بلاشبہ ایک بڑی تبدیلی ہے، یہ نمائندے اپنے علاقوں کی ترقی کی منصوبہ بندی میں براہ راست شریک ہوں گے اور اپنے عوام کی نمائندگی کرینگے۔

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ غلام خان اور انگور اڈہ بارڈر کو بھی طورخم کی طرز پر تعمیر کیا جائے گا، جنوبی اضلاع کیلئے پشاور سے ڈی آئی خان ایکسپریس وے کی تعمیر سے ان علاقوں کی تقدیر بدل جائے گی، قبائلی اضلاع اور افغا ن راہداری کو بھی جنوبی ایکسپریس وے سے منسلک کیا جائے گا، کوشش ہوگی کہ شوال کو سیاحتی زون کا درجہ دیا جائے۔

اراکین صوبائی اسمبلی میرکالام،اقبال وزیر،ملک شاہ محمدوزیر،قبائلی عمائدین اوردیگربھی اس موقع پرموجود تھے، وزیراعلی نے عوام کے مسائل سنے اور موقع پر ہی ان کے حل کیلئے احکامت جاری کیے، اس موقع پر قبائلی عمائدین نے میرانشاہ اور میر علی بازار کے تاجروں کے مسائل حل کرنے پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔

دیگر ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے محمود خان نے کہا کہ ٹل سے میر علی روڈ کی تعمیر کا منصوبہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جا چکا ہے، چک ڈیم کی فیزبیلٹی پر بھی کام شروع ہے، قبائلی اضلاع کیلئے نیا مائنز اینڈ منرل قانون لارہے ہیں جس کے تحت مائنز کی تمام تر لیز مقامی افراد کو فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے اس موقع پر شمالی وزیرستان میں تھیلیسیمیا سنٹر کے قیام جبکہ میران شاہ پریس کلب کیلئے بھی 20 لاکھ روپے خصوصی گرانٹ کا اعلان کرتے ہوئے یقین دلایا کہ قبائلی اضلاع کیلئے کوٹہ موجود ہے جسے مزید بڑھانے کی کوشش کریں گے، خطے میں گھوسٹ سکولوں کی حوصلہ شکنی کریں گے اور جہاں بھی ضرورت ہوگی وہاں مطلوبہ معیار کے مطابق سکول بمعہ مکمل سٹاف یقینی بنائیں گے، ریسکو 1122 کو تمام قبائلی اضلاع تک توسیع دی جارہی ہے، میران شاہ اور میرعلی کے تاجروں کو معاوضہ دینے کی منظوری ہوچکی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت انتہائی سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ ترقی اور خوشحالی کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کسی نے بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کی اس کا مقابلہ کریں گے، کچھ لوگ مذہت اور دیگر پرکشش نعروں کو بنیاد بنا کر امن اور ترقی کے درپے ہیں۔

محمود خان نے کہا کہ اسرائیل کا وجود تسلیم کرنے کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے اور واضح کیا کہ ہم سب مسلمان ہیں اور عقیدہ ختم نبوت پر کامل ایمان رکھتے ہیں، آئین پاکستان کے مطابق بھی ختم نبوت کی شق کا دفاع کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان نے کشمیر کا سودا کیا ہے انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وزیراعظم عمران خان نے تاریخ میں پہلی بار کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر بھرپور قوت اور دلائل سے اٹھایا ہے، کشمیر پر سمجھوتہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہم کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی تک اس کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

قبل ازیں وزیراعلیٰ نے رزمک گرڈ سٹیشن سے 11 کلو وولٹ فیڈر کا باضابطہ افتتاح کیا جس کے ذریعے علاقہ گریوم کے 50 دیہات کو بجلی مہیا کی جائے گی۔

واضح رہے کہ یہ مکمل ہونے والا فیڈر علاقہ گریوم کو بجلی کر فراہمی کے ایک جامع منصوبے کا حصہ ہے جس پر مارچ 2017 ءسے کام شروع ہے جس کی مکمل تکمیل کی مدت جون 2020 ہے، منصوبے کے تحت 1145 ہائی ٹینشن پول جبکہ 1210 لو ٹینشن پول نصب کئے جارہے ہیں، 2,82,240 میٹر طویل ہائی ٹینشن کنڈکٹر اور 3,04,920 میٹرطویل لو ٹینشن کنڈکٹر نصب کئے جارہے ہیں، منصوبے کے تحت 50 کلو وولٹ ایمپئیر کے 80 ٹرانسفارمر جبکہ 100 کلو وولٹ ایمپئیر کے 50 ٹرانسفارمر نصب کئے جارہے ہیں جن میں سے 100 ٹرانسفارمرز لگائے جا چکے ہیں جبکہ 30 ٹرانسفارمرز کی تنصیب بھی جلد مکمل ہو جائے گی۔