شیخ رشید کے موجودہ دور وزارت میں 80 چھوٹے بڑے ریلوے حادثات

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے اگست 2018 میں وزیر ریلوے کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک ہونے والے 80 چھوٹے بڑے ریلوے حادثات و واقعات پیش آئے ہیں جن میں درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ کروڑوں روپے کا مالی نقصان الگ ہوا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق 31 اکتوبر 2019 کو کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس میں ضلع رحیم یار خان کے قریب گیس سلنڈر پھٹنے سے کم از کم 74 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اس سے قبل 11 جولائی کو پنجاب کے علاقے صادق آباد میں ایک ٹرین حادثہ پیش آیا تھا۔

صادق آباد میں ولہار سٹیشن پر اکبر ایکسپریس اور مال گاڑی آپس میں ٹکرا گئیں تھیں جس کے نتیجے میں 23 افراد جاں بحق اور 85 زخمی ہوگئے تھے۔

اسی طرح 20 جون 2019 کو صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں جناح ایکسپریس ٹریک پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی تھی، ٹرین اور مال گاڑی کی اس ٹکر کے نتیجے میں ڈرائیور، اسسٹنٹ ڈرائیور اور گارڈ جاں بحق ہوگئے تھے۔

اس حادثے سے ایک ماہ قبل 17 مئی کو سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز میں مال گاڑی کو حادثہ پیش آیا تھا۔

اپریل میں رحیم یار خان میں مال بردار ریل گاڑی حادثے کا شکار ہوئی اور اس کی 2 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔

یاد رہے کہ رواں برس جولائی میں چیئرمین معین وٹو کی صدارت میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ریلوے حکام نے بتایا کہ گزشتہ 12 مہینے میں 74 ریلوے کے حادثات اور پٹڑی سے اترنے کے واقعات ہوئے ہیں جن میں سے 13 سنگین حادثات ہیں جبکہ 61 پٹڑی سے اترنے کے واقعات شامل ہیں،  سنگین حادثات میں سے 8حادثات آگ لگنے کے ہیں۔

رکن کمیٹی خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جب حادثات بڑھے تو میرا استعفیٰ مانگا جاتا تھا، میں تو کسی کا استعفیٰ نہیں مانگتا، ریلوے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 74 انکوائریاں ہوئیں جن میں سے 54 مکمل ہوئیں جبکہ 20 جاری ہیں ،13 لوگوں کو سزائیں دی گئی ہیں جبکہ 34 ایف آئی آر درج کرائی گئی ہیں۔

بعض ذرائع کے مطابق شیخ رشید کے موجودہ دور وزارت میں ان حادثات کی تعداد 79 تک پہنچ گئی ہے۔