لطیف لالا کے بعد سینیٹر ستارہ آیاز کی پارٹی رکنیت بھی ختم

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

عوامی نیشنل پارٹی نے سینیٹر ستارہ آیاز کی پارٹی رکنیت ختم کردی۔

باچا خان مرکز پشاور سے جاری اعلامیہ کے مطابق سینیٹر ستارہ آیاز پر پارٹی میں گروپ بنانے اور گروپ بندی کو فروغ دینے، پارٹی میں تنظیموں سے بغاوت اور پارٹی منافی سرگرمیوں کا الزام تھا جس کی پاداش میں صوبائی صدر ایل ولی خان نے انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔

شوکاز نوٹس کے جواب میں صوبائی صدر نے سینیٹر ستارہ آیاز کو کابینہ کے دیگر اراکین کی موجودگی میں پرسنل ہیئرنگ کا موقع فراہم کیا لیکن سینیٹر صوبائی صدر اور کابینہ کے دیگر اراکین کو تسلی بخش جواب نہ دے سکیں۔

صوبائی صدر نے پارٹی آئین، نظم وضبط اور پارٹی کے عظیم تر مفاد میں سینیٹر ستارہ آیاز کی پارٹی رکنیت پارٹی آئین کے آرٹیکل 27سیکشن 1 کے تحت ختم کردی ہے جس کے بعد ان کا پارٹی سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 2 ستمبر کو عوامی نیشنل پارٹی نے سینئر قانون دان لطیف آفریدی کی پارٹی رکنیت ختم کر دی تھی۔

اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق شوکاز نوٹس کا جواب نہ دینے پر لطیف آفریدی کی بنیادی رکنیت ختم کردی گئی تھی۔

واضح رہے کہ لطیف آفریدی، عمران آفریدی اور ستارہ آیاز کو گزشتہ ماہ پارٹی کے صوبائی صدر کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

شوکاز نوٹس میں سینئر قانون دان سے کہا گیا تھا کہ پارٹی کی ضلعی تنظیم اور صوبائی تنظیم کے ذرائع کے مطابق صوبائی اسمبلی کے حالیہ انتخابات میں آپ کے بیٹے نے آزاد حیثیت میں حصہ لیا ہے۔

نوٹس میں مزید کہا گیا تھا کہ عبدالطیف آفریدی پارٹی کے مرکزی رہنماء ہیں اور پارٹی نے ہمیشہ انہیں اور ان کے خاندان کو عزت دی ہے لیکن بدقسمتی سے پارٹی کے پارلیمانی بورڈ نے ٹکٹوں کیلئے جب درخواستیں طلب کیں تو آپ کے بیٹے نے درخواست جمع کرانا مناسب نہیں سمجھا اور آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا۔

شوکاز نوٹس میں لطیف لالا سے مزید کہا گیا کہ آپ نے پارٹی کے ایدوار کی بجائے انتخابی مہم میں اپنے بیٹے کو سپورٹ کیا جس پر آپ کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا لیکن مقررہ وقت میں آپ نے جواب نہیں دیا لہٰذا پارٹی آئین کے باب سوئم شق 27 کے تحت آپ کی بنیادی رکنیت ختم کی جاتی ہے۔