خیبرپختونخوا حکومت کا ہائی ویز پر سیٹلائٹ ریسکیو اسٹیشنز قائم کرنے کا فیصلہ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

خیبرپختونخوا حکومت نے ہائی ویز اور موٹرویز پر 8 سیٹلائٹ ریسکیو اسٹیشنز قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت کے حکام نے بتایا کہ مذکورہ منصوبے کا مقصد ٹریفک حادثات میں متاثرین کی جان بچانا اور معذوری کے تناسب کو کم سے کم کرنا ہے، منصوبے پر امریکی ادارہ برائے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ 13کروڑ 90 لاکھ روپے مالی تعاون پیش کرے گا۔

حکام نے بتایا کہ صوبے میں ہائی ویز پر مربوط ریسکیو سروس کا کوئی نظام موجود نہیں ہے اور قریبی اضلاع سے ہنگامی ٹیمیں جائے حادثہ پر بھیجی جاتی ہیں جنہیں پہنچنے میں تاخیر کا سامنا ہوتا اور اس طرح متعدد جانوں کا ضیاع ہوجاتا ہے۔

حکام نے بتایا کہ ریلیف، ری ہبلیٹیشن اینڈ سیٹلمنٹ (آر آر ایس) کا محکمہ سیٹلائٹ ریسکیو اسٹیشن قائم کرے گا۔ آر آر ایس کے سیکریٹری محمد عابد مجید نے بتایا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے حادثات کی شرح زیادہ ہے، ہر ریسکیو سینٹر پر بڑی ایمبولنس ہوں گی جس میں 6 سے 8 متاثرین آسکیں گے۔

علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ ضروری طبی سامان سمیت تربیتی یافتہ عملہ ہر وقت موجود ہوگا، ان کے محکمے نے ابتدائی طور پر 8 ریسکیوسینٹر کی تجویز دی ہے جس کی فنڈنگ یو ایس ایڈ کرے گا اور حکومت طبی عملہ فراہم کرے گی۔

آر آر ایس کے سیکریٹری نے بتایا کہ ریسکیو سینٹر پر 24 گھنٹے سروس فراہم کی جائیں گی اور ان کا محکمہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی سے رابطہ کرے گا تاکہ ایمبولینس کے لیے شیڈز اور شیپنگ کنٹینر رکھنے کے لیے جگہ کا حصول ممکن ہے جس میں ریسکیو اسٹیشن قائم ہوگا، ریسکیو 1122 پورا منصوبہ  یقینی بنائےگی۔

واضح رہے کہ رواں برس فروری میں ضلع کرک میں کار سے ٹکرانے کے بعد مسافر ویگن میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں 13 افراد جھلس کر جاں بحق اور 4 مسافر زخمی ہوگئے تھے۔ جاں بحق ہوئے اور زخمی مسافروں کو امدادی رضاکاروں اور مقامی افراد نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہستپال (ڈی ایچ کیو) کرک منتقل کردیا تھا۔

علاوہ ازیں جولائی 2013 میں کرک کے قریب اسی طرح کے ایک حادثے میں ایک ٹرک اور مسافر بس ٹکراگئی تھیں جس کے بعد گیس سلنڈر پھٹنے سے کم ازکم 17 مسافر جھلس کر جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

پاکستان میں روڈ حادثات میں سب سے زیادہ اموات مشترکہ طور پر خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور آزاد کشمیر میں ہوتی ہیں، دوسرے نمبر پر پنجاب اور تیسرے نمبر پر صوبہ سندھ ہے۔