قبائلی اضلاع میں تعلیم کیلئے 22 ارب روپے مختص

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبرپختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع میں تعلیم کیلئے 22 ارب روپے مختص کر دیے۔

قبائلی اضلاع میں تعلیمی ترقی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے تعلیم ضیاء اللہ بنگش کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی اضلاع میں تعلیم کے لیے 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔

ضیاء اللہ بنگش نے کہا کہ فنڈز سی اینڈ ڈبلیو کے بجائے والدین اور اساتذہ کونسل کے ذریعے خرچ کیےجائیں گے، قبائلی اضلاع کے سکولوں میں سہولیات مکمل کرنے کے لیے ابتدائی طور پر چار ارب روپے جاری کردیے ہیں۔

مشیر تعلیم کے مطابق قبائلی اضلاع کے لیے چالیس کروڑ روپے کی لاگت سے سکول بیگز اور سٹیشنری خریدی جائے گی، 23 کروڑ روپے قبائلی اضلاع کے سرکاری سکولوں میں کھیلوں کے میدان تیار کرنے کے لیے جاری کیے گئے ہیں

انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں سرکاری سکولوں کے تمام بچوں کو وظائف دینے کے لیے ڈھائی ارب کی رقم جاری کردی گئی ہے، قبائلی اضلاع میں 4 ہزار 733 نئی اساتذہ کی بھرتیوں کی منظوری بھی دی گئی ہے

اس موقع پر وزیراعلیٰ کے مشیر برائے قبائلی اضلاع اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا سے کسی جھتہ بردار فورس کو نہیں چھوڑا جائے گا اور قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف قانون ایکشن میں آئے گا۔

اجمل وزیر نے کہا کہ آزادی مارچ کرنے والوں کو اپنے ایجنڈا بھی معلوم نہیں، خیبرپختونخوا سے پرامن احتجاج کرنے والوں کو نہیں روکا جائے گا، لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بننے پر ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔