پاک فوج اور افغان طالبان کے درمیان جھڑپیں

پاکستان افغانستان سرحدی فورسز کے مابین جھڑپیں مزید علاقوں تک پھیل گئی ہیں۔

قبائلی رہنماء امان اللہ خان نے مقامی میڈیا کی وساطت سے بیان جاری کیا ہے کہ پاکستان افغانستان فورسز کے درمیان جاری جھڑپوں کی روک تھام اور فائر بندی کیلئے قبائلی روایات کے تحت کوششیں شروع کر دی ہیں۔

لیویز ذرائع کے مطابق دونوں جانب فورسز کے درمیان جھڑپوں کا دائرہ مزید علاقوں تک پھیل گیا ہے۔ مغربی سرحد پہ کلی باچا اور گہوری کہول بارڈر پر بھی افغان فورسز کے ساتھ فائر کا تبادلہ جاری ہے۔

سرحد پر دونوں جانب منقسم قبائل اپنے گھروں میں محصور ہوچکے ہیں۔ لیویز بارڈر انچارج عجب خان کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے گولہ باری میں شدت آرہی ہے اور متعدد گولے باب دوستی، کسٹم چوکی اور پارکنگ ایریا میں گرے ہیں۔

ضلع کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ گولہ باری سے اب تک متعدد شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بڑے ہسپتالوں میں تمام ڈاکٹرز اور طبی عملہ طلب کر لیا گیا ہے۔

دو طرفہ گولہ باری بند کرانے کیلئے پاک افغان حکام کے درمیان فلیگ میٹنگ طلب کی گئی ہے۔ اس میٹنگ میں افغان فورسز یعنی افغان طالبان کی نمائندگی کیلئے گورنر قندہار افغان وفد کی قیادت کیلئے اسپین بولدک پہنچ چکے ہیں۔

افغان طالبان کمانڈر نے تصدیق کی ہے کہ گولہ باری کی وجہ سے افغان ایریا میں بھی ہلاکتیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ سرحد کے مقامی شہریوں نے دونوں اطراف کی فورسز سے اپیل کی ہے کہ فائر روک دیں۔