سول و عسکری قیادت کا صنعتکاروں اور تاجروں سے ملاقات

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

حکومت اور ملک کے معروف صنعت کاروں و تاجروں نے کم سے کم ماہانہ اجرت بڑھانے پر اتفاق کر لیا جبکہ وزیراعظم عمران خان نے عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے صنعت کاروں اور بزنس مین سے تعاون مانگ لیا۔

وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد میں معروف صنعتکاروں اور تاجروں کے وفد سے ملاقات ہوئی، جس میں صنعتوں کے فروغ کے لیے طویل المدت پالیسیوں کے تسلسل پر زور دیا گیا جبکہ حکومت اور صنعتکاروں کا کم سے کم ماہانہ اجرت بڑھانے پر اتفاق بھی کیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت عالمی منڈی میں ہونے والی مہنگائی کا عام آدمی پر پڑنے والے بوجھ کا احساس رکھتی ہے، عام آدمی کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ صنعت کار اور بزنس مین عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر چلیں.

پاکستان تحریک انصاف نے حکومت میں آنے سے پہلے ہی پارٹی منشور میں آئی ٹی اور ٹیکسٹائل برآمدات کی پالیسی شامل کی تھی جس کے ثمرات اب واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملک کی دس بڑی کمپنیوں نے پچھلے سال 929 ارب روپے منافع کمایا، حکومت نے سرمایہ کاری اور کاروبار کے فروغ کے لیے تاریخی اقدامات کیے جو پہلے کسی حکومت نے نہیں کیے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات21 ارب ڈالرز کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں جو آئندہ سال تک 26 ارب ڈالرز تک پہنچنے کی توقع ہے۔

عمران خان نے بتایا کہ پاکستان دنیا کا چوتھا سب سے بڑا موٹر سائیکل بنانے والا ملک بن چکا ہے جبکہ ٹریکٹرز کی برآمدات میں 10 فیصد اضافہ ہوا جس میں 90فیصد پارٹس مقامی طور پر تیار کیے جارہے ہیں۔

عمران خان نے ہدایت کی کہ آئی ٹی اور ٹیکسٹائل کے ساتھ ساتھ دفاعی پیداوار اور انجینیرنگ کے شعبوں پر توجہ دی جائے

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت صنعتوں کے فروغ اور برآمدات بڑھانے کے لیے طویل المدت پالیسی پر عمل درآمد کر رہی ہے، کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت انڈسٹری نے ریکارڈ منافع کمایا جس کے ثمرات مزدور طبقے کو ملنے چاہییں.

انہوں نے کہا کہ میں اُن صنعت کاروں اور تاجروں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میری استدعا پر ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ چین کے دورے سے پہلے بزنس کمیونٹی سے مشاورت ضروری تھی، حکومت پاکستانی اور چینی صنعت کاروں کے مابین روابط بڑھانے اور مشترکہ بزنس منصوبے (Joint Ventures) قائم کرنے پر بات کرے گی.

انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروبار کے فروغ پر ہم توجہ دیں گے جس کی وجہ سے متوسط اور غریب طبقے کے معاشی حالات میں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ برآمدات میں اضافہ کے لیے آئی ٹی، زراعت، لائیواسٹاک، مشینری، ٹیکسٹائل سیکٹرز میں بے تحاشہ مواقع موجود ہیں۔

اس موقع پر تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دفاعی پیداوار کے شعبے میں وسیع مواقع موجود ہیں جن کا پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں اشتراک سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، ملک کی ترقی کی خاطر حکومتی پالیسیوں کے عمل درآمد میں پورا ساتھ دیں گے۔

صنعت کاروں نے حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کی مکمل تائید کی اور منافع میں اضافہ کے ثمرات کو نچھلے طبقے تک منتقل کرنے کی حمایت کی جبکہ برآمدات بڑھانے، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے فروغ، ٹیکس نظام میں بہتری اور دورۂ چین کے حوالے سے تجاویز بھی پیش کیں۔

دسری جانب چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کی خاطر حکومتی پالیسیوں کے عمل درآمد میں پورا ساتھ دیں گے۔

وزیراعظم اور آرمی چیف سے اسلام آباد میں ملک کے معروف صنعت کاروں اور تاجروں نے ملاقات کی، اس موقع پر وفاقی وزرا اور معاونین خصوصی بھی موجود تھے۔

آرمی چیف نے تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی پیداوار کے شعبے میں وسیع مواقع موجود ہیں، جن کا پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر میں اشتراک سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کی خاطرحکومتی پالیسیوں کے عمل درآمد میں پورا ساتھ دیں گے۔

صنعت کاروں نے حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کی مکمل تائید کی اور منافع میں اضافہ کے ثمرات کو نچلے طبقے تک منتقل کرنے کی حمایت کی جبکہ برآمدات بڑھانے، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے فروغ، ٹیکس نظام میں بہتری اور دورۂ چین کے حوالے سے تجاویز بھی پیش کیں۔