پاک افغان بارڈر پر بغیر دستاویزات سفر کرنیوالوں کیلئے نیا نظام متعارف

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پاکستان نے چمن بارڈر پر سفری دستاویزات کے بغیر سفر کرنے والے پاکستانی اور افغان شہریوں کے لیے نیا خود کار نظام متعارف کرا دیا ہے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق نادرا سے منسلک اس کمپیوٹرائزاڈ نظام کے ذریعے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کا ریکارڈ مرتب کرکے انہیں پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کرنے سے روکا جاسکے گا۔

ایک نجی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان عبدالحمید بھٹو نے بتایا کہ چمن سرحد پر روزانہ 20 سے 22 ہزار افراد کی پیدل آمدروفت ہوتی ہے۔ جن میں ایک بڑی تعداد افغان باشندوں کی ہوتی ہے۔

اس سے پہلے ان افراد کی دستاویزات کی تصدیق کا کوئی باقاعدہ کمپیوٹرائزڈ نظام موجود نہیں تھا اور پیدل آمدروفت کو ایف آئی اے کے بجائے پاک فوج اور ایف سی کنٹرول کرتی تھی۔

اب پاک فوج کی مدد سے انٹیلی جنس ویری فیکشن ایکسس سسٹم (آئی وی اے ایس) چمن سرحد کے باب دوستی پر نصب کرکے پیدل آمدروفت کا کنٹرول ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اب بائیو میٹرک بارڈر سسٹم کے ذریعے دستاویزات کی تصدیق کرکے لوگوں کو بارڈر عبور کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، جبکہ پاسپورٹ اور ویزے پر سفر کرنے والوں کے لیے پہلے سے نافذ انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم استعمال کیا جا رہا ہے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے عبدالحمید بھٹو نے بتایا کہ انٹیلی جنس ویری فیکشن ایکسس سسٹم کے ذریعے پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر سفر کرنے والے پاکستانی اور افغان باشندوں کا ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے۔

اس طرح افغانستان کی شناختی دستاویز تذکرہ پر پاکستان میں داخل ہونے والے ہر شخص کی خود کار انٹری ہوگی اور ہمیں معلوم ہوسکے گا کہ وہ کب پاکستان آیا اور کب واپس گیا۔

ان کے مطابق یہ آئی وی اے ایس نظام نادرا سے منسلک ہے، اگر کوئی افغان باشندہ تذکرہ پر پاکستان میں داخل ہونے کے بعد پاکستانی دستاویزات حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، تو نادرا کو اس آئی وی اے ایس سسٹم کے ذریعے پتہ چل جائے گا اور اسے روکا جا سکے گا۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے مزید بتایا کہ 20 جنوری سے اب تک اس سسٹم کے ذریعے تقریبا 40 سے 50 ہزار افراد کا خود کار ریکارڈ جمع کیا جا چکا ہے۔

جنہوں نے پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر چمن سرحد عبور کی۔ چمن سرحد سے اس وقت بھی یومیہ اوسطا آٹھ سے 10 ہزار افراد پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔

تقریباً اتنے ہی افراد روزانہ افغانستان جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جعلی شناختی کارڈ اور جعلی افغان دستاویز تذکرہ کے ذریعے سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔