سارہ گِل پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

سارہ گِل نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں خواجہ سرا برادری کو مختلف سرکاری شعبوں میں نوکریوں کے لیے زیر غور لائے جانے کے بعد وہ تکنیکی تعلیم کے حصول میں بھی پیش پیش رہنے لگی ہے۔

اس سلسلے میں سارہ گِل پاکستان کی پہلی خواجہ سرا بنی ہیں جنھوں نے ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کر لی ہے، سارہ نے اپنی تعلیم جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج سے مکمل کی، جو جامعہ کراچی سے الحاق شدہ ادارہ ہے۔

سارہ گِل نے ڈاکٹر بننے پر کہا کہ پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر بننے پر انھیں فخر محسوس ہو رہا ہے، انھوں نے کہا کہ میں اپنی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے کام کروں گی۔

واضح رہے کہ جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے ایم بی بی ایس کے سالانہ امتحان 2021 میں پہلی پوزیشن ایک لڑکی نے حاصل کی ہے، فاطمہ طارق نے اٹھارہ سو میں 1395 نمبر حاصل کیے۔

دوسری پوزیشن محمد لقمان نے اپنے نام کی ہے، جنھوں نے 1391 نمبر لیے، جب کہ تیسری پوزیشن عاشر احمد خان نے حاصل کی ہے، جنھوں نے 1385 نمبر لیے۔

‏ نادرا کا خواجہ سرا افراد کیلیے زبردست اقدام

نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے 10 دسمبر کو منائے جانے والے انسانی حقوق کے ‏عالمی دن کے موقع پر خواجہ سرا افراد کے لئے رجسٹریشن مہم کا آغاز کیا.

ملک ‏بھر میں معاشرے کے اس محروم طبقے کو شناخت کے ذریعے بااختیار بنانے میں مدد دینے کے ‏لئے متعدد خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں۔ ‏

‏ “جو ہر انسان کے حقوق، وہی ہر خواجہ سرا کے حقوق” کے مرکزی پیغام کے ساتھ شروع کی گئی ‏رجسٹریشن اور آگاہی کی اس مہم کے سلسلے میں 13 دسمبر کو نادرا کے فیلڈ افسران اور دیگر ‏عملہ کے لئے ایک خصوصی تربیت کا انعقاد کیا جائے گا جس کا مقصد ان حساس پہلوؤں اور ‏خدشات کو دور کرنا ہے جن کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں خواجہ سرا شناخت جیسے بنیادی ‏انسانی حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ‏
‏ ‏
خیال رہے کہ نادرا نے اب تک ایسے 5626 خواجہ سراء افراد کی رجسٹریشن مکمل کر لی ہے ‏جنہوں نے صنف کے طور پر اپنے آپ کو مرد یا عورت ظاہر نہیں کیا۔ نادرا، خواجہ سرا برادری کو ‏بااختیار بنانے کے لئے قانونی شناخت کی اہمیت کے بارے میں لوگوں میں اور بالخصوص خواجہ ‏سرا افراد میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے بھی کام کر رہا ہے۔

اس سلسلے میں وزارتِ انسانی حقوق ‏اور محکمہ سماجی بہبود کے صوبائی و ضلعی دفاتر کے ساتھ مل کر خواجہ سرا افراد میں آگاہی ‏بڑھانے اور انہیں شناختی کارڈ بنوانے پر قائل کرنے کے لئے رابطہ و رسائی کی سرگرمیوں پر کام کیا ‏جا رہا ہے تاکہ معاشرے کے اس محروم طبقے کے ساتھ اس دیرینہ امتیاز و تفریق پر قابو پانے اور ‏ان کے خلاف تشدد کے واقعات میں کمی لانے میں مدد دی جا سکے۔ ‏
‏ ‏
چیئرمین نادرا کی ملک بھر سےآئے ہوئے خواجہ سراء کمیونٹی کےنمائندوں سے شناخت کے متعلق ‏درپیش مسائل پر ملاقات کی۔ اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین نادرا طارق ‏ملک نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی دن پر ہم اپنے تمام ہم وطنوں کو یہ یاددہانی کرا رہے ہیں ‏کہ جو حقوق تمام انسانوں کو حاصل ہیں وہی خواجہ سرا افراد کو بھی حاصل ہیں۔

پائیدار ترقی کے ‏عالمی مقصد نمبر 16.9 اور 10.2 کے حصول میں بامعنی پیشرفت کے لئے ضروری ہے کہ ہم معاشرے ‏کے انتہائی کمزور اور محروم طبقات کے حقوق کو فروغ اور تحفظ دیں اور خواجہ سرا افراد کی ‏موثر شمولیت کے ذریعے ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کریں جو سب کا معاشرہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ نادرا اس سلسلے میں اپنا فرض بخوبی انجام دے رہا ہے اور خواجہ سرا افراد ‏کو شناخت کی بنیادی دستاویز یعنی قومی شناختی کارڈ کے اجراء کے ذریعے معاشرے کے مرکزی ‏دھارے میں لانے کے لئے سرگرم ہے۔

چیئرمین نادرا نے کہا کہ خواجہ سرا افراد کے نام میرا واضح ‏پیغام ہے کہ “اپنا آپ منوائیں، ہم آپ کی بات مانیں گے۔ اپنی ذات کو اپنے نقطہ نظر کے مطابق ‏منوانا آپ کا بنیادی حق ہے”۔ ‏
‏ ‏
نادرا کی جانب سے شروع کی گئی اس مہم کے تحت وزارتِ انسانی حقوق اور محکمہ سماجی ‏بہبود کے صوبائی و ضلعی دفاتر اور این جی اوز کے اشتراک سے ایسے علاقوں میں موبائل ‏رجسٹریشن وین کے ذریعے خصوصی سہولیات کا اہتمام کیا جا رہا ہے جہاں خواجہ سرا برادری کے ‏افراد بڑی تعداد میں مقیم ہیں۔

نادرا کی جانب سے تمام خواجہ سرا افراد کے لئے پہلی بار شناختی ‏کارڈ مفت بنوانے کی سہولت بھی دی جا رہی ہے۔

پاکستان میں خواجہ سرا افراد کے پہلے باقاعدہ ‏سکول “فرسٹ ٹرانس جنڈر پرسنز سکول، ملتان” میں بھی ایک موبائل رجسٹریشن وین تعینات کی ‏گئی ہے۔ اس سکول میں خواجہ سرا اساتذہ اپنے طلبہ کو بنیادی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی ‏سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ ‏