سانحہ مری پر حکومت نے رپورٹ پیش کر دی گئی

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا ہے کہ سانحہ مری میں غلفت برتنے والے 15 افسران کو معطل کرکےان کےخلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو عہدو ں سے ہٹا دیاگیا ہے جب کہ سی پی او، سی ٹی او راولپنڈی، اسسٹنٹ کمشنرمری، اےایس پی مری کو بھی عہدوں سےہٹایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی ایس پی ٹریفک، ایس پی ہائی وے سرکل ٹو راولپنڈی، ایکسئن ہائی وے راولپنڈی، ایس ڈی اوہائی وے مکینکل مری، ڈویژنل فارسٹ آفیسر مری، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر مری، انچارج مری ریسکیو 1122، ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے پنجاب کو ہٹا دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ افسران کو ہٹاکر ان کےخلاف انضباطی کارروائی کی ہدایت کر دی گئی ہے قوم سےسانحہ پر جو وعدہ کیاتھا اسےپوراکیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت نےافسران کوہٹانےاور نئے افسران کانوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کمشنر راولپنڈی ڈویژن گلزار شاہ کو اوایس ڈی بنا دیا گیا ہے اور سیکریٹری اسپورٹس نورالامین مینگل کمشنرراولپنڈی تعینات کیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر راولپنڈی محمدعلی کو اوایس ڈی بنا کر ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ طاہر فاروق کو ڈپٹی کمشنر راولپنڈی تعینات کیا گیا ہے۔ سی پی اوراولپنڈی ساجدکیانی اوایس ڈی کر دیےگئے ہیں۔ ان کی جگہ آرپی او اشفاق احمد خان کو سی پی او راولپنڈی کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔

تمام متعلقہ محکموں کی غفلت ثابت

سانحہ مری کی تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو پیش کر دی گئی، رپورٹ کے مطابق تمام متعلقہ محکموں کی غفلت ثابت ہو گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 4 والیمز اور 27 صفحات پر مشتمل سانحہ مری کی انکوائری رپورٹ میں تمام افسران اور مقامی لوگوں کے بیانات لیے گئے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں تمام متعلقہ محکمو ں کی غفلت ثابت ہو گئی ہے، تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ سانحے کے دوران افسران واٹس ایپ پر چلتے رہے اور منیجمنٹ ساری واٹس ایپ پر ہوتی رہی، وہ صورت حال کو سمجھ ہی نہ سکے، افسران نے صورت حال کو سنجیدہ لیا نہ کسی پلان پر عمل کیا، کئی افسران نے واٹس ایپ میسج بھی تاخیر سے دیکھے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر، اور اسسٹنٹ کمشنر سمیت سبھی کو غفلت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، سی پی او، سی ٹی او بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محکمہ جنگلات، اور ریسکیو 1122 کا مقامی آفس بھی سانحے کے وقت کارکردگی نہ دکھا سکے، ہائی وے محکمہ بھی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہا۔

سانحہ مری سے متعلق تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ برفانی طوفان میں 14 درخت گرے تھے، تاہم اداروں میں رابطے کے فقدان کی وجہ سے روڈ کلیئرنس میں بہت تاخیر ہوئی۔

یہ حقیقت سامنے آئی کہ محکمہ جنگلات کے پاس درخت ہٹانے کی اپنی مشینری موجود نہیں، اس کے لیے وہ مکینکل ڈیپارٹمنٹ کی مدد لیتا ہے۔ پنجاب ایمرجنسی سروسز ریسکیو کو شدید برف باری میں پھنسے 100 سے زائد افراد نے کالیں کر کے مدد مانگی تھی، جن کی ریکارڈنگز بھی حاصل کی گئیں۔

یاد رہے کہ 8 جنوری کو مری اور اطراف میں سردی کی شدت سے گاڑیوں میں دم گھٹ کر 22 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

سانحہ مری: متاثرہ افراد کی ریسکیو سے رابطے کی ریکارڈنگز مل گئیں

سانحہ مری کے سلسلے میں پنجاب ایمرجنسی سروسز ریسکیو کا غیر ذمہ دارانہ کردار سامنے آ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز نے سانحہ مری کے متاثرہ افراد کی ریسکیو سے رابطے کی ریکارڈنگز حاصل کر لی ہیں، شدید برف باری میں پھنسے 100 سے زائد افراد نے ریسکیو سے مدد مانگی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ریسکیو کنٹرول روم نے فون پر مدد مانگنے والوں کو شٹل کاک بنائے رکھا، ریسکیو اہل کار مشکل میں پھنسے افراد کو دیگر اداروں کے نمبر فراہم کرتے رہے، جب کہ برفانی طوفان میں پھنسے افراد فون پر ریسکیو اہل کاروں کی منتیں کرتے رہے۔

کال ریکارڈز کے مطابق کنٹرول روم میں موجود اہل کار نفری کمی کو جواز بنا کر وقت گزارتے رہے، ریسکیو اہل کار مری کی ایمبولینس بھی ٹریفک میں پھنسنے کی اطلاع دیتے رہے۔

متاثرہ شہری محمد اعجاز خان کے مطابق 7 جنوری کو برفانی طوفان میں ریسکیو اہل کار کسی کی مدد کے لیے نہیں آئے، کلڈانہ میں فیملی کے ساتھ 20 گھنٹے تک ہم برفباری میں پھنسے رہے، اور ریسکیو 1122 کے ہنگامی نمبر پر 80 سے زائد مرتبہ مدد کے لیے رابطہ کیا۔

اعجاز خان نے بتایا کہ کنٹرول روم کا نمائندہ دیگر سرکاری اداروں کا رابطہ نمبر فراہم کرتا رہا۔ واضح رہے کہ مری میں ہنگامی حالات کے لیے ریسکیو 1122 کے تین ایمرجنسی اسٹیشنز موجود ہیں۔