کرتارپور راہداری کھولنے کے لیے معاہدے پر دستخط ہوگئے

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

کرتار پور راہداری کھولنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان تاریخی معاہدے پر دستخط ہوگئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے پاکستان کی طرف سے جبکہ بھارت کی جانب سے بھارتی وزارت امور خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ایس سی ایل داس نے معاہدے پر دستخط کیے۔

اس موقع پر ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ معاہدہ دین اسلام کی دیگر مذاہب کے لئے احترام کی تعلیمات پر مبنی خارجہ پالیسی کا مظہر ہے جبکہ 9 نومبر کو وزیراعظم عمران خان منصوبے کا افتتاح کریں گے اور تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ روزانہ 5 ہزار سکھ یاتری بغیر ویزا گوردوارہ کرتار پور صاحب میں اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں گے جن سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی صرف 20 ڈالر سروس چارجز کی مد میں وصول کیے جائیں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف میں رتی برابر بھی تبدیلی نہیں آئی اور نہ آئے گی۔

واضح رہے کہ کرتار پور معاہدے کے تحت متعین کردہ تعداد میں انفرادی یا گروپ کی شکل میں یاتری پیدل یا سواری کے ذریعے صبح سے شام تک سال بھر نارووال کرتارپور آسکیں گے جبکہ سرکاری تعطیلات اور کسی ہنگامی صورتحال میں یہ سہولت میسر نہیں ہوگی۔

معاہدہ کے مطابق سکھ یاتریوں کو موثر بھارتی پاسپورٹ پر کرتارپور راہداری استعمال کرنے اور بیرون ملک رہائش پذیرسکھ یاتریوں کو بھارتی اوریجن کارڈ پر سہولت کا فائدہ اٹھانے کی اجازت ہوگی جبکہ بھارتی حکومت سکھ یاتریوں کی فہرست 10 دن قبل پاکستان کے حوالے کرے گی۔