لنڈی کوتل: تاریخ میں پہلی بار لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کیلئے گرینڈ جرگہ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

لنڈی کوتل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لئے معروف شاہ آفریدی نے آل خیبر گرینڈ جرگہ منعقد کیا، شرکاء نے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

خیبر یوتھ فورم کے زیر اہتمام محمد نور کلے میں منعقدہ جرگہ میں مہمان خصوصی اے ڈی ای او پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ مثل خان، لنڈی کوتل تحصیل کے متوقع چیئرمین شاہ خالد شینواری، ممتاز شخصیت اور میڈیا کے نمایندہ یوسف جان، پیرا میڈیکس ایسوسی ایشن ضلع خیبر کے صدر مجیب آفریدی، خیبر یوتھ فورم عوامی آگاہی پروگرام کے سربراہ معروف آفریدی، آرمی پبلک سکول کے پرنسپل شاہ فیاض داوڑ، مفتی نور اکرم، زوان سدوخیل کے محراب آفریدی، نورالامین اور شاعر عبدالغفور سمیت مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر معروف شاہ آفریدی نے کہا کہ آئیے ہم سب مل کر لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے میں کردار ادا کریں۔ جرگہ سیشن میں ان نکات پر مبنی قرارداد پیش کی گئی۔ لڑکیوں کی تعلیم کے لئے کمیونٹی کو متحرک کرنا اور پرائمری سکولوں میں تدریسی سٹاف اور کمروں میں اضافہ کرنا ہے، اس کے ساتھ موجودہ پرائمری اسکولوں کی اپ گریڈیشن اور کمیونٹی بیسڈ سکولز قائم کرنے ہیں۔

اس موقع پر آل خیبر جرگہ سیشن سے شرکاء نے کہا کہ علم روشنی ہے، جہالت اندھیرا ہے ہم سب کو ذمہ داری کا احساس ہونا چاہئے اور لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لئے ہر ایک کو کردار ادا کرنا چاہیے اور متعلقہ حکام و ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پر زور دینا چاہیے کہ وہ گرلز اسکول میں سٹاف کی ڈیوٹی کو یقینی بنائیں اور لیٹ آنے والے یا غیرحاضر سٹاف کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔

انہوں نے کہا کہ والدین کا کردار اس حوالے سے بہت اہم ہے، ہمیں سب سے پہلے اپنی بچیوں کو داخل کرنا چاہیے اور اس پر کڑی نظر رکھنا ہو گی کہ بچیاں کیسے تعلیم حاصل کرتی ہیں اور ممبران اسمبلی سمیت تمام ذمہ داران کو تعلیمی نسواں کے لئے مؤثر انداز میں آواز اٹھانا ہو گی۔

شرکاء نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ اتنے اہم سیشن میں خواتین کی نشست پر منتخب ہونے والی ایم پی اے بصیرت بی بی نے شرکت نہیں کی اور ابھی تک بصیرت بی بی نے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے کچھ نہیں کیا، ابھی تک ایک سکول کا دورہ کیا اور نہ ہی لڑکیوں کی تعلیم کے لئے درپیش مسائل کے حل کے لئے آواز اٹھائی ہے جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔

اے ڈی ای او مثل خان نے کہا کہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ لڑکیوں کی تعلیم کے لئے کام کر رہا ہے، مختلف اسکولوں کی اپ گریڈیشن کی منظوری دی گئی ہے اور بہت جلد اس پر کام شروع کیا جائے گا، ”ہمیں اپنے آپ کو بیدار کرنا ہے تو دنیا کا کوئی کام ایسا نہیں ہے کہ وہ نہ ہو سکے، افغانستان میں بھی لڑکیوں کی تعلیم کو جاری رکھا جائے پردہ کے اندر لیکن تعلیم جاری رکھنا ان کا بنیادی حق ہے۔”

انہوں نے تمام شرکاء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام کو دوام دینا چاہیے، لنڈی کوتل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لڑکیوں کی تعلیم کے لئے گرینڈ جرگہ کا انعقاد کیا گیا ہے جس پر ہم خیبر یوتھ فورم بالخصوص معروف شاہ آفریدی کے شکر گزار ہیں۔

آخر میں خیبر یوتھ فورم کے صدر بخت علی شاہ آفریدی نے قرارداد پیش کی کہ ہر چوتھے پرائمری اسکول کو مڈل میں اپ گریڈ کیا جائے اور گرلز اسکول کے سٹاف میں اضافہ کیا جائے جبکہ کالر سٹاف کو بحال کیا جائے اور فیمیل اے ڈی او کو ہفتہ وار معائنہ کرنے کا پابند بنایا جائے جو تمام شرکاء نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی اور سوشل ایکٹیوسٹ جمائمہ آفریدی نے جرگہ انعقاد کو اہم اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ قبائلیوں کے حوالے سے عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ بچیوں کی تعلیم کے مخالف ہیں حالانکہ ایسا ہے نہیں، اور اس کا بڑا ثبوت اس جرگے کا انعقاد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر کسی کی خواہش ہے کہ اپنے بچے بچیوں کو تعلیم دلوائیں تاہم ادھر سہولیات ہیں نا مواقع، ”ادھر سکول ہیں نا کالجز، اور یونیورسٹی کی تو میں بات ہی نہیں کروں گی۔”

انہوں نے کہا کہ ادھر غربت بہت ہے اور ہر کوئی اتنی استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ شہر جا کر اپنی بچیوں کو تعلیم دلوائیں کیونکہ یہ لوگ دو وقت کی روٹی کے لئے محنت مزدوری کریں یا پھر اپنے بچے بچیوں کی تعلیم کی فکر، قریب قریب جو سکول ہوتے ہیں وہاں پرائمری تک بمشکل بچیاں تعلیم حاصل کر لیتی ہیں لیکن پھر سہولیات نا ہونے کی وجہ سے یہ سلسلہ ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

ٹی این این کی جانب سے رکن صوبائی اسمبلی بصیرت بی بی کے ساتھ رابطہ کرنے کی بار بار کوشش کی گئی تاہم ان کی جانب سے کوئی رسپانس نہیں ملا۔