منی بجٹ نافذ : دودھ، گھی، موبائل سمیت 150 اشیاء مہنگی

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وفاقی حکومت نے اتوار سے ادویات، ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال، سلائی مشین، درآمدی مصالحہ جات، گاڑیاں، دوائیں، موبائل فون، دو سو گرام سے زیادہ وزن کے حامل بچوں کے دودھ، ڈبے والی دہی، پنیر، مکھن، کریم، دیسی گھی، مٹھائی پر دی جانیوالی سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کردی ہے اور ان اشیاء پر سترہ فیصد جنرل سیلز ٹیکس لاگو کردیا ہے۔

صدر مملکت کی جانب سے مالیاتی بل 2021 پر دستخط کے بعد منی بجٹ کا نفاذ کردیا گیا ہے جبکہ چینی پر رعایتی سیلز ٹیکس ختم کرکے سترہ فیصد جنرل سیلز ٹیکس کا اطلاق یکم دسمبر 2021 سے کیا گیا ہے اور باقی تمام اشیا پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرکے عائد کردہ سترہ فیصد جی ایس ٹی کا اطلاق آج سے کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق چھوٹی دکانوں پر بریڈ، سویاں، نان، چپاتی، شیر مال، رسوں پر ٹیکس لاگو نہیں ہوگا مگر بیکریوں، ریسٹورنٹس، فوڈ چینز اور مٹھائی کی بڑی دکانوں پر ٹیکس ہوگا۔

اس کے علاوہ درآمدی نیوز پرنٹ، اخبارات، جرائد، کاسمیٹکس، کتابیں، سلائی مشین، امپورٹڈ زندہ جانور اور مرغی پر مزید ٹیکس لگے گا ۔کپاس کے بیج، پولٹری سے متعلق مشینری، اسٹیشنری، سونا، چاندی بھی منی بجٹ کے بعد مہنگے ہوجائیں گے۔

منی بجٹ میں تقریباً 150 اشیاء پر سیلز ٹیکس بڑھایا گیا ہے، موبائل فون پر ٹیکس 10 سے بڑھا کر 15 فیصد کرکے 7 ارب روپے اضافی حاصل کیے جائیں گے، 1800 سی سی کی مقامی اور ہائبرڈ گاڑیوں پر 8.5 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا گیا ہے، 1801 سے 2500 سی سی کی ہائبرڈ گاڑیوں پر 12.75 فیصد ٹیکس عائد کردیا گیا ہے، درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر 12.5 فیصد ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے سینئر افسر نے بتایا منی بجٹ کا اطلاق آج اتوار سے کردیا گیا ہے، بچوں کے فارمولہ دودھ پر جی ایس ٹی میں رعایت کر دی گئی ہے، لال مرچ اور آئیوڈین ملے نمک پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، 500 روپے مالیت کے 200 گرام دودھ کے ڈبے پر جی ایس ٹی نہیں ہوگا۔

ملٹی میڈیا، ٹائر ون کٹیگری کے آوٹ لیٹ و بیکریوں اور ریسٹورنٹ پر بیکری پر ڈبل روٹی، بن رس سمیت دیگر سامان، زرعی شعبے میں استعمال ہونے والے مختلف نوعیت کے پلانٹ و مشینری سمیت، ویجیٹیبل گھی، موبائل فون، سٹیشنری اور پیک فوڈ آئٹم، انڈے، پولٹری، گوشت، جانوروں کی خوراک کی تیاری میں استعمال ہونے خام مال، گاڑیاں، ٹریکٹر سمیت ایک سو پچاس کے لگ بھگ اشیاء مہنگی ہونے کے امکانات ہیں، ان اشیاء پر سترہ فیصد جی ایس ٹی عائد کردیا گیا ہے۔

وفاقی و صوبائی ہسپتالوں، خیراتی ہسپتالوں، این جی اوز و تعلیمی اداروں، سفارتکاروں و سفارتی مشن سمیت دیگر مراعات یافتہ طبقے کی طرف سے کی جانے والی درآمدات کو بھی ٹیکس سے چھوٹ واپس لے لی گئی ہے، ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کیلئے شیڈول 5، 6، 7، 8اور 9 میں کی جانے والی ترامیم لاگو کردی گئی ہیں۔

اپوزیشن کی تنقید اور عوامی ردعمل پر چھوٹی دکانوں پر بریڈ،سویاں، نان،چپاتی وغیرہ پر ٹیکس لاگو کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے،سیب کے علاوہ درآمدی پھلوں، سبزیوں پر10فیصد سیلز ٹیکس ، پیکنگ میں فروخت ہونے وا لے درآمدی مصالحہ جات پر17فیصد سیلز ٹیکس ، فلور ملز پر بھی 10فیصد سیلز ٹیکس عا ئدکیا گیا ہے جس سے آٹا بھی مہنگا ہوسکتا ہے.

رپورٹ کے مطابق ملٹی میڈیا ٹیکس بھی10فیصد سے بڑھا کر 17فیصدکرنے ، بیٹری پر ٹیکس 12فیصد سے بڑھا کر 17فیصد کردیا گیا ہے ،ڈیوٹی فری شاپس پر بھی 17فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔

سرکاری عہدہ رکھنے والوں کی ٹیکس تفصیل پبلک کرنے کے قانون کو بھی لاگو کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ریئل اسٹیٹ کو دی گئی رعایت جاری رکھی جائے گی۔ کسٹمز، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس قوانین میں ترامیم کر کے ایف بی آرکلکٹر کے اختیارات کم کردیئے گئے ہیں ۔ منی بجٹ لاگو ہونے کے بعد اب ان اشیا کے مہنگے ہونے کا واضح امکان ہے۔