اردو کو سرکاری زبان رائج نہ کرنے پر سپریم کورٹ کا اہم اقدام

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

سپریم کورٹ نے اردو کو بطور سرکاری زبان رائج نہ کرنے پر سختی سے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام پر اظہار برہمی کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق اردو کو بطور سرکاری زبان رائج کرنے کے حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، اس حوالے سے سپریم کورٹ نے وزارت تعلیم سے جواب طلب کر لیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، اعلیٰ عدالت نے صوبہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں پنجابی لٹریچر نہ پڑھائے جانے پر پنجاب حکومت سے بھی جواب طلب کیا ہے۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سپریم کورٹ کے اردو بطور سرکاری زبان رائج کرنے کے حکم پر فوری عمل درآمد ہونا چاہیے، تعلیم کے علاوہ ایک چیز تربیت بھی ہوتی ہے۔

معزز جج کا کہنا تھا کہ تمام شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زبان کو زندہ رکھنے کیلئے اقدامات کریں، ہمیں اردو کو عالمی زبان بنانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں اردو زبان کو کوئی فروغ نہیں مل رہا، وفاقی حکومت نشاندہی کرے اردو رائج کرنے کے کون سے ادارے ہیں؟

جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ باقی تین صوبے اپنی زبانوں کا تحفظ کر رہے ہیں تو اب تک پنجاب کیوں پیچھے ہے؟ اردو زبان رائج کرنے کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھیں گے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔