پاکستان میں ڈیجیٹل کریپٹو کرنسی پر مکمل پابندی کی سفارش

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

ڈیجیٹل کریپٹو کرنسی کے حوالے سے بڑی پیش رفت سامنے آگئی، ڈپٹی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی نے کریپٹو کرنسی پر مکمل پابندی کی سفارش کر دی

میڈیا رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے قانونی پہلوﺅں کا جائزہ لینے کیلئے رپورٹ وزارت خزانہ اور وزارت قانون کو بھیجنے کی ہدایت کر دی، جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیئے کہ پابندی لگانے کی صورت میں پابندی کی آئینی حیثیت سے بھی عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو ڈیجیٹل کریپٹو کرنسی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔

ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کی 38 صفحات پر مشتمل رپورٹ عدالت میں پیش کر دی گئی۔ کمیٹی نے پاکستان میں کریپٹو کرنسی اور اس کے ساتھ جڑی سرگرمیوں پر پابندی کی سفارش کر دی۔

کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ کریپٹو کرنسی کی اجازات دینے سے فارن کرنسی اور غیر قانونی پیسہ باہر منتقل ہو سکتا ہے۔

حال ہی میں ایف آئی اے نے کریپٹو کرنسی اسکینڈل پکڑا ہے۔ چین، بنگلہ دیش، سعودی عرب، مصر، مراکش، ترکی سمیت 11 ممالک نے کریپٹو کرنسی پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ان ممالک نے بیرون منی لانڈرنگ اور غیر ملکی کرنسی باہر جانے کی خدشات کے پیش نظر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

درخواست گزار نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ ایسا میکنیزیم نہیں ہے کہ جس سے پتہ چلے کہ کاروبار کرنے کی شناخت ہو سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق کاروبار کرنے والے کی شناخت اس وقت ممکن ہوگی، جب کریپٹو کاروبار کرنے والے کو لائسنس کا اجرا نہ ہو۔

درخواست گزار کے مطابق وزارت اطلاعات کو لائسنس کے اجرا کیلئے منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ پیش کی گئی کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ریگولیٹیڈ ایکسچینجز کو کریپٹو کے کاروبار کی اجازات ملنی چاہئے۔

درخواست گزار کے مطابق فارن ایکسچینجز کو پاکستان سے کام کی اجازات نہیں ہونی چاہئے۔ درخواست گزار کے مطابق والٹ سے فنڈ ریکوری فارنزک ماہرین کی مدد سے ممکن ہے۔ درخواست گزار نے کمیٹی کی رپورٹ سے اختلاف کیا ہے۔

کریپٹو کرنسی سے پابندی سے پاکستان عالمی مارکیٹ میں مقابلے سے باہر ہو جائے گا۔ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی بلاک چین صنعت کو معاشی فائد نہیں ہوگا۔

کریپٹو کرنسی پر محض کمیٹی کی سفارشات پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی ہے۔ کریپٹو کرنسی پر پابندی کا فیصلہ آئین سے متصادم ہوگا۔ عدالت نے قانونی پہلوں کا جائزہ لینے کیلئے رپورٹ وزارت خزانہ اور وزارت قانون کو بھیجنے کی ہدایت کر دی۔

عدالت نے ہدایت کی کہ وزارت خزانہ اور وزارت قانون 3 ماہ میں حتمی فیصلہ کریں۔ جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیئے پابندی لگانے کی صورت میں پابندی کی آئینی حیثیت سے بھی عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

کرنسی میں کاروبار کی اجازت کی صورت میں لیگل فریم ورک تیار کیا جائے۔ کریپٹو کرنسی کا موجودہ اسٹیٹس قانون نافذ کرنے والی ادارے خود طے کریں۔

متعلقہ ادارے قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ جاپان نے کریپٹو کو قانونی شکل دی ہے۔

ایف آئی اے کریپٹو کا کاروبار کرنے والوں کیخلاف مقدمات درج کر رہی ہے۔ کریپٹو کو امریکا اور دیگر ممالک کی طرح سوفٹ ویئر کے طور پر تسلیم کیا جائے۔