تقسیم ہند کے وقت بچھڑ جانے والے دو بھائی کرتار پور میں مل گئے

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

کرتار پور راہداری سے جہاں بھارتی سکھوں کو اپنے مقدس مقام گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور پر حاضری کی سہولت میسرآئی ہے وہیں برسوں سے بچھڑے دوستوں اور بھائیوں کے ملاپ کا ذریعہ بھی بن گئی ہے۔

متروکہ وقف املاک بورڈ کے ذرائع کے مطابق چند روز قبل 74 سال سے بچھڑے دو بھائیوں نے کرتارپور صاحب میں ایک دوسرے سے ملاقات کی ہے۔

فیصل آباد کے نواحی چک 255 بوگرا کے رہائشی 80 سالہ بزرگ محمد صدیق کی 74 برسوں بعد 1947 میں بچھڑنے والے بھائی سے ملاقات ہوگئی ہے۔

بزرگ محمد صدیق کے مطابق قیام پاکستان سے دو دن قبل ان کی والدہ ان کے چھوٹے بھائی حبیب، جن کی عمر اس وقت چند ماہ تھی، کو ساتھ لیکر بھارتی پنجاب میں اپنے والدین کو ملنے گئی اور اس دوران تقسیم کا اعلان ہوگیا۔

وہ کئی روز تک اپنی والدہ کی راہ تکتے رہے ہیں مگر وہ لوٹ کرواپس نہ آسکیں، انہوں نے اپنی والدہ اور چھوٹے بھائی کو تلاش کرنے کی کافی کوشش کی مگر کامیابی نہ مل سکی اور اب 74 برسوں بعد انہیں ان کا چھوٹا بھائی حبیب مل گیا ہے۔

راہداری میں برسوں سے راہ تکتے بھائیوں کی نظر جب ایک دوسرے پر پڑی تو دل پر قابو نہ رکھ سکے اور بے اختیاران کے آنسو چھلک پڑے۔ دونوں بھائی گلے لگ کر روئے اور جذبات کو ہلکا کیا۔

محمد صدیق کا کہنا تھا انساں زندہ ہو تو مل ہی جاتا ہے۔ حبیب نے کہا یہ راہداری ان کے لئے ملاپ کی راہداری ثابت ہوئی ہے دونوں بھائیوں کے ایک دوسرے سے ملنے کی جذباتی ویڈیو سوشل میڈیاپر شیئرکی گئی ہے۔

دونوں بھائیوں کی ملاقات کا انتظام پنجابی لہر نامی این جی او نے کیا تھا جو اس سے قبل 1947 میں بچھڑے کئی خاندانوں اور دوستوں کو ملانے کا ذریعہ بن چکی ہے۔

پنجابی لہر کے کے نمائندوں نے بتایا کہ محمد صدیق کے بھائی کی تلاش میں سوشل میڈیا سمیت مشرقی پنجاب میں موجود دوستوں نے کافی مدد کی ہے۔

پنجابی لہر نے کچھ عرصہ قبل محمد صدیق کی ویڈیوز شیئرکی تھیں جس کے بعد بھارتی پنجاب میں ان کے بھائی کو جاننے والے ان سے رابطہ کیا اور بالاخر دونوں بھائیوں کی کرتارپور راہداری کے ذریعے ملاقات کروائی گئی ہے۔

اس سے قبل نارووال سے تعلق رکھنے والے محمد بشیر بھی 1947 میں بچھڑنے والے اپنے جگری دوست سردار گوپال سنگھ سے ملاقات کرچکے ہیں۔

دونوں دوستوں کا چند برس قبل سوشل میڈیا کے ذریعے ہی رابطہ ہوا تھا مگر ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔

تاہم کرتارپور راہداری کھلنے کے بعد دونوں دوستوں نے گوردوارہ دربار صاحب میں ملنے کا فیصلہ کیا اور بالاخر 74 برسوں بعد دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا، اس وقت سردارگوپال سنگھ کی عمر 94 جبکہ محمد بشیر کی عمر 91 سال ہے۔

گوپال سنگھ کے مطابق بچپن میں دونوں دوست یہاں اس گوردوارہ صاحب میں آتے اور گھنٹوں اکٹھے کھیلتے تھے۔ نومبر 2021 میں ایک خاندان کے دو افراد کی ملاقات ہوئی تھی۔

سن 1947 میں بچھڑنے والے پھوپھا اور بھتیجا کرتارپور راہداری کے راستے ملے تھے۔ پھوپھا ہمایوں فیصل آباد اور بھتیجا محمد بشیر بھارتی گاؤں تارن سے آیا تھا، بچھڑے ہوئوں نے کرتارپور راہداری سے ملاپ پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔