اشیائے خورد و نوش کی زائد قیمتوں پر کریک ڈاؤن کا آغاز

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے اشیائے خورد و نوش زائد قیمتوں پر فروخت کرنے والوں کیخلاف سخت ایکشن کی ہدایت کردی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے زیر صدارت اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں چیف سیکرٹری کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں صوبہ بھر میں آٹے اور چینی سمیت 17 اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس کو اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی تازہ صورتحال، قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے انتظامیہ کے اقدامات اور دیگر متعلقہ اُمور پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ دیگر صوبوں کی نسبت خیبر پختونخوا میں بیشتر اشیائے خوردونوش کی قیمتیں نسبتاً کم ہیں.

میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سات اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی آئی ہے جن میں چینی، دال مسور، ٹماٹر، دال ماش اور دیگر شامل ہیں۔

بریفنگ میں کہا گیا چھ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے جن میں آٹا، بیف ، مٹن، گھی، انڈے اور لہسن شامل ہیں، صوبے میں اگلے پیداواری سیزن تک کے لئے گندم کا وافر ذخیر ہ موجود ہے.

مزید یہ کہ فلو ر ملوں کو روزانہ کی بنیاد پر سات ہزار میٹرک ٹن سرکاری گندم ریلیز کی جارہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو صوبہ بھر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں سے متعلق ماہانہ کی بنیاد پر رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اشیائے خوردونوش کی ذخیرہ اندوزی اور خود ساختہ مہنگائی پر کڑی نظر رکھی جائے.

انہوں نے کہا ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور سرکاری نرخ سے زائد پر اشیائے خوردونوش کی فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز اپنے اپنے اضلاع میں سرکاری نرخنامے پر ہر صورت عمل درآمد کو یقینی بنائیں، صوبے کے کسانوں کو سرکاری نرخوں پر یوریا کی فراہمی کیلئے موثر میکنزم بنایا جائے۔