وفاقی حکومت کا قومی سلامتی پالیسی پبلک کرنے کا فیصلہ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے ہیں، جس میں اکانومی، ملٹری اور انسانی تحفظ (ہیومن سکیورٹی) کو بنیاد قرار دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پہلی بار قومی سلامتی سے متعلق جامع پالیسی تیار کی گئی، جو 100 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔

وزیراعظم جمعہ کو پچاس صفحات پر مشتمل غیر خفیہ پالیسی کے نکات کا اجراء کریں گے جبکہ پالیسی کے آدھے حصے کو پبلک نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نئی قومی سلامتی پالیسی اکانومی، ملٹری اور ہیومن سکیورٹی کے تین بنیادی نکات پر مشتمل ہے، اکانومی سکیورٹی کو قومی سلامتی پالیسی میں مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔

قومی سلامتی پالیسی پر سالانہ بنیادوں پر نظرثانی کی جائے گی اور ہر آنے والی حکومت کو پالیسی میں ردوبدل کا اختیار حاصل ہو گا جبکہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی پالیسی کی وارث ہو گی۔

حکومت ہر ماہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو قومی سلامتی پالیسی پر عمل درآمد رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہو گی۔ سامنے آنے والے نکات کے مطابق قومی سلامتی پالیسی میں 2 سے زائد ایکشن وضع کئے گئے ہیں

رپورٹ کے مطابق پہلے حصے کو کلاسیفائیڈ تصور کیا جائے گا، جس میں خطے کا امن، رابطہ کاری اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت پالیسی جیسے معاملات شامل ہوں گے جبکہ دوسرے حصے میں ہائبرڈ وار فیئر کو شامل کیا گیا ہے۔

بڑھتی آبادی کو ہیومن سکیورٹی کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا گیا، شہروں کی جانب ہجرت، صحت، پانی اور ماحولیات، فوڈ اور صنفی امتیاز کو ہیومن سکیورٹی کی اہم وجہ بھی قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح پالیسی میں عالمی پابندیاں ختم ہونے کے بعد ایران کے ساتھ معاملات آگے بڑھانے کا اختیار حکومت وقت کو تجویز کیا گیا جبکہ گڈ گورننس، سیاسی استحکام، فیڈریشن کی مضبوطی کو بھی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔

نیشنل سکیورٹی ڈویژن نے پالیسی کے معاملے پر سیاسی فریقین کو اعتماد میں لینے کے لئے آمادگی ظاہر کی ہے۔