اپوزیشن کا سانحہ مری پہ جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

حکومت نے سیاحوں کے مری اور گلیات جانے کے لیے عائد پابندی میں مزید توسیع کر دی ہے جبکہ رہائشیوں پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہو گا۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے مری اور گلیات جانے کے لیے عائد پابندی میں 24 گھنٹے کی توسیع کر دی ہے، مری اور ملحقہ علاقے کے رہائشیوں کا اس پابندی پر اطلاق نہیں ہو گا۔

شیخ رشید نے کہا کہ مری اور گلیات کی صورت حال کا مسلسل جائزہ لیا جارہا ہے، مری اور گلیات جانے کے لیے پابندی کھولنے کا فیصلہ صورت حال کا جائزہ لے کر کیا جائے گا۔

دوسری جانب قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن نے سانحہ مری پر حکومتی کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن بنانے اور عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ فواد چوہدری کی تقریر پر اپوزیشن نے خوب شور شرابہ کیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

اسپیکر نے سانحہ مری پر بحث کا اعلان کیا تو قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 23 افراد کی موت کی سو فیصد حکومت ذمہ دارہے، قوم انہیں معاف نہیں کرے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ مری میں، دل خراش اور اندوہناک سانحہ ہوا، بیس گھنٹے ہزاروں لوگ گاڑیوں میں پھنسے رہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں تھا،

انہوں نے کہا کہ معصوم بچے، نوجوان اور بزرگ خواتین دم توڑ گئیں، کیا یہ کوئی حادثہ تھا یا کسی کی مجرمانہ غفلت تھی، وہاں پر کوئی انتظام نہیں تھا اور ادارے موجود نہیں تھے۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ لوگ مدد کے لیے آسمان کی طرف دیکھتے رہے، بتایا جائے سیف سٹی اسلام آباد کے کیمرے بھی لگے ہوئے ہیں انہیں چیک کیوں نہیں کیا گیا؟ محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کیا لیکن کوئی انتظام کیوں نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مری میں رش پہلی بار تو نہیں ہوا، اس بار لوگوں نے ملکہ کوہسار کا رخ کیا تو کس طرح بدترین مجرمانہ غفلت ہوئی، سیر و، تفریح اور خوشیاں ماتم میں بدل گئیں، اس پر انتظامیہ کہتی ہے کہ وہ تیار نہیں تھی.

انہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ تیار نہیں تھی تو استعفی دے اور گھر جائے، عمران خان گھر جائیں ورنہ قوم آپ کو گھسیٹ کر باہر کر دے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ ایک وزیر نے خوشحالی کا بیان جاری کیا یعنی مری حادثہ ہوا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا، ایک نیرو اسلام آباد میں سو رہا تھا اور دوسرا نیرو لاہور میں بلدیاتی انتخابات کے اجلاس کررہا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مری کے لیے ایس او پیز بنے ہوئے تھے اپنے دور میں ہم نے اربوں روپے کی مشینری منگوا کر رکھی تھی۔ جھیکا گلی، لوئر ٹوپہ اور دیگر جگہوں پر کیمپس لگتے تھے لیکن اس سال دور دور تک کوئی انتظام نہیں تھا۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ جس طرح معیشت کا حال ہے اور ملک کو تباہ کیا بالکل اسی طرح مری واقعہ کو بھی ڈیل کیا گیا، نمک اور مشینری کہاں تھی؟ اسٹاف کب پہنچا؟ کوئی کام نہیں کیا گیا.

انہوں نے کہا کہ 23 افراد کی ہلاکت کی ذمہ دار حکومت ہے، قوم اس کا حساب لے گی اور آپ کو گھسیٹ کر باہر نکالے گی۔

انہوں ںے مزید کہا کہ اتنے بڑھے سانحے پر حکومت نے سرکاری افسران کی کمیٹی بنادی سانحے کی عدالتی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

شہباز شریف کے بعد وزیر اطلاعات فواد حسین چوہدری نے شہباز شریف کی تقریر پر طنزیہ تنقید شروع کردی جس پر فواد چوہدری کی تقریر شروع ہوتے ہی ایوان میں اپوزیشن نے شور شرابہ شروع کردیا۔ اپوزیشن نے فواد چوہدری کے خلاف لوٹا لوٹا اور شیم شیم کے نعرے لگائے۔

فواد چوہدری نے شہباز شریف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، فواد چودھری نے شور کرنے والے اپوزیشن اراکین کو ’’چمچے، کھڑچھے قرار دیتے ہوئے کہا کہ شریف فیملی اپنے محلات نہ بناتی تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتے، شہباز شریف نے حادثے پر شعبدہ بازی کی لیکن کہنے کو کچھ نہیں تھا۔

فواد چوہدری نے شور کرنے والے اراکین کو کہا کہ یہ چھوٹے دل کے لوگ بڑے ایوان میں آگئے ہیں، یہ ہمیں سبق دینے آئے ہیں کہ مری کے واقعے میں کیا کرنا چاہیے تھا، جب تحریک انصاف کے ارکان مری میں لوگوں کے ساتھ امدادی کام کررہے ہیں تھے.

انہوں نے کہا کہ اس وقت سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر رہے تھے، بتا دیں ہمیں کہ نون لیگ کا ایک بھی رکن قومی اسمبلی مری پہنچا ہو۔

فواد چوہدری نے کہا کہ نواز لیگ کے دور میں سانحہ ماڈل ٹاؤن ہوا، ان کے دور میں 100 بچے آکسیجن نہ ملنے سے مر گئے، ان کے دور میں ماڈل ٹاؤن ہو یا مری، ترقی صرف ان کے گھروں کے گرد ہوئی ہے جب کہ آج ہماری پالیسی کے نتیجے میں اندرون ملک سیاحت کو فروغ ملا ہے۔

شہباز شریف کی طرف سے سانحہ مری پر طنز کے جواب پر فواد چودھری نے لیگی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لاش پر لاش گری، نیند نہ ٹوٹی تیری، حاکم وقت تیری دیدہ دلیری کو سلام۔

سانحہ مری پر بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ایک وزیرنے سوشل میڈیا پر کہا لاکھوں لوگ مری پہنچے ہیں، ایک وزیر سوشل میڈیا پر جشن منا رہا تھا.

اسی وزیرنے پھر کہنا شروع کردیا کہ سیاحوں کو نہیں آنا چاہیے تھا، ایسی منافقت پاکستان کی تاریخ میں نہیں دیکھی، سانحہ مری کو بھولنے نہیں دیں گے، حکومت، وزرا کی طرف سے سیاست کرنے پر مذمت کرتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وزرا کے ایسے بیانات کوئی نئی بات نہیں، جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے تویہ متاثرین کو ہی مورد الزام ٹھہرا دیتے ہیں، جیسا کہ وزیراعظم نے ہزارہ واقعے پر کہا تھا کہ لاشوں سے بلیک میل نہیں ہوں گے۔

آزاد رکن اسمبلی اسلم بھوتانی نے کہا کہ اہل بلوچستان کی طرف سے سانحہ مری پر اظہار تعزیت کرتے ہیں، گوادر میں بھی کم تباہی نہیں ہوئی اس پر بات کیوں نہیں ہو رہی؟ گوادر سی پیک کا جھومر ہے، غریب لوگوں کے لیے کچھ کیا جائے۔