حکومت کی طرف سے سانحہ مری پر رپورٹ جاری

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

مری میں 300 افراد کو آرمی کے عملے نے طبی امداد دی: آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مری میں برف باری میں گھرے 300 افراد کو آرمی کے عملے نے طبی امداد دی، ان افراد کو پناہ دی گئی اور کھانا اور چائے بھی فراہم کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مری میں برف باری میں گھرے 300 افراد کو آرمی کے عملے نے طبی امداد دی، متاثرہ افراد میں بچے بھی شامل تھے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مری میں 1 ہزار سے زائد پھنسے افراد کو کھانا فراہم کیا گیا، جھیکا گلی، کشمیری بازار، لوئر ٹوپہ اور کلڈنہ میں کھانا فراہم کیا گیا۔

متاثرہ افراد کو ملٹری کالج مری، سپلائی ڈپو، اے پی ایس، آرمی لاجسٹک اسکول میں پناہ دی گئی، مذکورہ افراد کو پناہ کے ساتھ گرم کھانا اور چائے فراہم کی گئی۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جھیکا گلی سے ایکسپریس وے تک راستہ کھول دیا گیا ہے، جھیکا گلی سے کلڈنہ تک راستہ کھل گیا ہے لیکن پھسلن موجود ہے۔ پھسلن کی وجہ سے ٹریفک نہیں چل رہی۔

گھڑیال سے بھوربن تک راستہ کھلا ہے جبکہ کلڈنہ سے باڑیاں تک راستے کھولنے کے لیے انجینیئرز اور مشینری مصروف ہے۔

سانحہ مری میں جاں بحق افراد کے ورثا کی مالی معاونت

پنجاب حکومت نے سانحہ مری میں جاں بحق افراد کے ورثا کی مالی معاونت کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی زیر سربراہی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت سانحے میں جاں بحق ہونیوالے افراد کو 8،8 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ جس کیلئے ایک کروڑ 76 لاکھ روپے کا فنڈ منظور کر لیا گیا۔ جن افراد کو آٹھ، آٹھ لاکھ دیئے جائیں گے۔

ان میں 22 افراد شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت اجلاس میں مر ی کو ضلع کا درجہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا گیا جبکہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ گنجائش سے زیادہ ٹریفک کو آئندہ مری میں داخل نہیں ہونے دیا جائیگا۔

اجلاس میں مری کے روڈ سٹرکچر کو بہتر بنانے کی منظوری بھی دی گئی جبکہ مری کی بڑی سڑکوں کیساتھ چھوٹے رابطہ لنک فوری بنانے کی بھی ہدایات جاری کر دی گئیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار مری میں ہونیوالے اجلاس کے فیصلوں، سانحہ مری کی تحقیقات کا بھی باقاعدہ اعلان کرینگے جبکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں سیکرٹری زراعت سمیت اہم افسران شامل ہوں گے۔

دوسری جانب گزشتہ بارشوں میں جان کی بازی ہارنے والے افراد کیلئے مجموعی طور پر 3 کروڑ 35 لاکھ روپے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ اجلاس میں راجہ بشارت، چیف سیکرٹری پنجاب، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب اور آئی جی پنجاب نے شرکت کی۔

مری کی سڑکوں کی 2 سال سے مرمت نہیں ہوئی

سانحہ مری کے حوالے سے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مری اورگردونواح میں سڑکوں کی 2سال سے جامع مرمت نہیں ہوئی۔

مری پاکستان کا مشہور ترین تفریحی مقام ہے جہاں سارا سال ہی سیاحوں کا رش لگا رہتا ہے لیکن بالخصوص موسم سرما میں برفباری کے دلفریب نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد یہاں کا رخ کرتی ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس معروف اور سیاحت کے حوالے سے بہت بڑی آمدن دینے والے اس مقام پر سہولیات میں اضافہ کرکے یہاں آنے والے ہزاروں افراد کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا جاتا اس کے برعکس سانحہ مری کے حوالے سے اس انکشاف نے سب کو چونکا دیا ہے جس میں بتایا گیا ہے مری اور اس کے اطراف کی شاہراہوں کی دو سال سے مرمت نہیں ہوئی۔

ابتدائی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 7 جنوری کو4 فٹ برف پڑی،16مقامات پردرخت گرے اور سڑکیں بلاک ہوئیں، بجلی نہ ہونے کے باعث سیاحوں نےہوٹل چھوڑکرگاڑیوں میں رہنےکوترجیح دی لیکن مری میں پارکنگ پلازہ موجودنہیں جہاں گاڑیاں پارک کی جاسکیں۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ مری کےمرکزی خارجی راستےپرپھسلن کےباعث کوئی حکومتی مشینری موجودنہ تھی، صبح 8بجےبرفانی طوفان تھمنےکےبعدانتظامیہ حرکت میں آئی تاہم مری سےخارجی راستےپربرف ہٹانےکیلئےہائی وےمشینری بھی نہ تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رات گئےڈی سی،سی پی اوکی مداخلت پرمری میں گاڑیوں کی آمدپرپابندی لگی، متعلقہ اسسٹنٹ کمشنراورڈی ایس پی ٹریفک روانی یقینی بنانےکیلئےموجودتھے اور 7 جنوری کو21ہزار گاڑیوں کو مری سے نکالاگیا۔

گڑھوں میں پڑنےوالی برف سخت ہونےسے بھی ٹریفک روانی میں رکاوٹ ہوئی جبکہ شاہراہ پرٹریفک جام سےبرف ہٹانےوالی مشینری کےڈرائیوربروقت نہ پہنچ سکے

یاد رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنےمزیدتحقیقات کیلیےکمیٹی تشکیل دےدی ہے۔

مری میں گاڑیوں کے داخلے سے متعلق شہری انتظامیہ کا اہم فیصلہ

وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے مری میں گاڑیوں کے داخلے پر پابندی میں 10 جنوری تک توسیع کر دی۔

تفصیلات کے مطابق دپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے مری میں گاڑیوں کے داخلے پر پابندی میں توسیع کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے جاری کردہ نوٹیفیکشن کے مطابق اسلام آباد سے مری جانے والے راستے 10 جنوری رات 9 بجے تک بند رہیں گے۔

شہری انتظامیہ کے حکم کی تکمیل کےلیے اسلام آباد پولیس نے سترہ میل اور سیرینا چوک پر تین چیک پوسٹیں بنا دیں، تینوں چیک پوسٹوں کے ذریعے گاڑیوں کے مری داخلے کو روکا جائے گا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ایمبولینسز، سیکیورٹی اداروں اور فائربریگیڈ کی گاڑیاں پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

خیال رہے کہ مری میں شدید برفباری کے باعث درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، حکومت نے عوام کو مزید ہلاکتوں سے بچانے کےلیے مری میں گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔

مری میں گاڑیوں کے داخلے پر پابندی میں توسیع

ضلعی انتظامیہ نے مری میں گاڑیوں کے داخلے پر پابندی میں توسیع کر دی۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے پابندی میں توسیع کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا جس کے مطابق مری میں گاڑیوں کے ‏داخلے کی پابندی میں 10جنوری رات 9 بجے تک توسیع کی گئی ہے۔

اسلام آباد سے مری جانے والے راستےکل رات 9 بجے تک بند رہیں گے۔ اسلام آباد پولیس نے سترہ میل اور سیرینا ‏چوک پر3 چیک پوسٹیں بنا دی ہیں ان تینوں چیک پوسٹوں کے ذریعےگاڑیوں کے مری داخلے کو روکا جائے گا۔

البتہ ایمبولینسیں، سیکورٹی اداروں کی گاڑیاں اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

واضح رہے کہ مری اور گلیات میں ہونے والی شدید برفباری نے شہریوں اور سیاحوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، ‏عوام کی جانیں بچانے اور کسی بھی قیمتی جان کے ضیاع سے محفوظ رکھنے کےلیے حکومت نے مری میں داخلے ‏پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

خیال رہے کہ پاک فوج کے جوانوں نے مری میں ہر طرح کی نقل وحمل کےلیے مرکزی شاہرات،کلڈنہ باڑیاں شاہراہ ‏بھی کھول دی گئی ہے اور مرکزی شاہرات کھولنے کے بعد اب رابطہ ‏سڑکیں کھولنے کا کام جاری ہے۔

سانحہ مری پر تحقیقاتی کمیٹی قائم، ٹی او آرز طے

سانحہ مری کے ذمے داروں کا تعین کرنے کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی، کمیٹی کو سات روز میں رپورٹ پیش کرنے کا پابند کیا گیا ہے

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کے سربراہ پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ظفر نصراللہ ہوں گے جبکہ سیکریٹری علی سرفرار، اسد گیلانی، اے آئی جی فاروق مظہر کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

تحقیقاتی کمیٹی کے لیے ٹی او آرز بھی طے کردیے گئے ہیں۔

تعین کردہ ٹی او آرز میں اہم نوعیت کے سوالات پوچھے گئے ہیں جن کی مدد سے ذمے داروں کے تعین میں آسانی ہوگی۔

ٹی او آرز میں پوچھا گیا ہے کہ محکمہ موسمیات کی وارننگ پر متعلقہ حکام نے کیا مشترکہ منصوبہ بندی کی تھی؟ میڈیا کے ذریعے مری جانے والوں کے لیے کوئی ٹریول ایڈوائزری جاری کی گئی تھی؟

اس کے علاوہ مری میں بے پناہ ہجوم ہونے پر ٹریفک کے انتظامات، مری میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی گنتی، کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے طے کی گئی حکمت عملی اور کنٹرول روم کے قیام سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

ٹی او آرز کے مطابق کمیٹی متعلقہ حکام سے یہ بھی پوچھے گی کہ اسلام آباد اور گلیات کے داخلی پوائنٹس پر گاڑیوں کو کیوں نہیں روکا گیا؟

برف ہٹانے والی مشینری، لفٹرز، سنو موبائلز کہاں رکھی گئیں، ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز میں ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کیا منصوبہ بندی کی گئی؟ تفتیش اس رخ پر بھی کی جائیگی۔

طے شدہ ٹی او آرز میں تعینات ٹریفک پولیس اہلکاروں کی تعداد، ریسکیو اداروں اور اسپتالوں سے ایمرجنسی سروسز سے متعلق رابطوں سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔

سب سے اہم تفتیش ان نکات پر کی جائیگی کہ برفانی طوفان کے دوران ریسکیو آپریشن کس حد تک موثر رہا، لوگوں کو کاروں سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیوں نہیں کیا گیا اور اس تمام بدترین صورتحال میں کوتاہیاں کن کن افسران کی تھیں۔

کمیٹی سات یوم میں ذمے داروں کا تعین کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔

سانحہ مری میں شہید ایک ہی خاندان کے 8 افراد سپرد خاک

سانحہ مری میں‌ شہید ہونے والے اے ایس آئی نوید اقبال اور اہلخانہ کو تلہ گنگ کے گاؤں دودیال میں سپردخاک کیا گیا

مری میں ہونے والے المناک واقعے میں 20 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، ان میں تلہ گنگ کے رہائشی اے ایس آئی نوید اقبال اور ان کے اہلخانہ بھی شامل تھے۔

اتوار کے روز تمام متوفیان کو گاؤں دودیال میں سپردخاک کردیا گیا. نماز جنازہ میں صوبائی وزیر حافظ عماریاسر، طارق فضل چوہدری، دیگر سیاسی وسماجی شخصیات سمیت ہزاروں افراد شریک تھے۔

تدفین کے موقع پر انتہائی رقت انگیز مناظر دیکھنے میں آئے اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ادھر صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے اے ایس آئی نوید اقبال کے بھائی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

صدر علوی نے اہلخانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی اور صبر جمیل کی دعا کی۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ نویداقبال اور اہلخانہ کےجاں بحق ہونے کا سن کرشدید صدمہ پہنچا، دکھ کی اس گھڑی میں میری ہمدردیاں متاثرین اور لواحقین کے ساتھ ہیں۔

مری کو ضلع کا درجہ دینے کا فیصلہ

عثمان بزدار کی زیرصدارت مری میں خصوصی اجلاس میں اہم ترین فیصلے کئے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزيرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرِ صدارت مری سانحے پر پنجاب حکومت کا خصوصی اجلاس مری میں ہوا، اجلاس کے شرکا نے مری میں برفباری سےپیش آئےسانحے پر قیمتی جانوں کےضیاع پراظہار افسوس کیا۔

اجلاس میں سانحۂ مری میں جاں بحق ہونے والے افراد کےلواحقین کیلئےمجموعی طور پرایک کروڑ 76 لاکھ روپے کا اعلان کیا گیا جو کہ فی کس 8،8 لاکھ روپے بنتا ہے۔

مری سانحہ کیسے رونما ہوا؟ اس کی جانچ پڑتال کے لئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی بنانےکا فیصلہ بھی کیا گیا، کمیٹی 7دن میں ممکنہ غفلت کےمرتکب افراد کا تعین کرے گی۔

وزيرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرِصدارت ہونے والے اجلاس میں مری کو ضلع کا درجہ دینے اور سیاحتی مقام کا انتظامی ڈھانچہ فی الفور اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر سڑکوں کے چھوٹےلنکس فوری تعمیر کئے جائیں گے۔

خصوصی اجلاس سے قبل وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ملکۂ کوہسار مری کے متاثرہ علاقے کا فضائی دورہ بھی کیا، وزیرقانون راجہ بشارت بھی ان کے ہمراہ تھے۔

وزیراعلیٰ کو ریلیف کمشنر نے امدادی سرگرمیوں پربریفنگ دی، معاو ن خصوصی برائے اطلاعات حسان خاور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

تمام سیاحوں کو ریسکیو کرلیا گیا، چیئرمین این ڈی ایم اے

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز کا کہنا ہے کہ مری میں تمام سیاحوں کو ریسکیو کی جاچکا جبکہ 90 فیصد سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز برف باری میں پھنسے تمام سیاحوں کو محفوظ مقامات پرمنتقل کیاجاچکاہے ان میں سے 371 افراد کو آرمی ریلیف کیمپوں میں منتقل کیاگیا۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ پاک فوج، سول اداروں سب نےمل کر ریسکیو کا کام سرانجام دیا، سیاحوں کی منتقلی میں مقامی افراد نے بھی مدد کی، سیاحوں کو رات سے قبل ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے اپنی خصوصی گفتگو میں کہا کہ کلڈانہ باڑیاں روڈ کھولنے کا کام جاری ہے، اس سڑک پر 77 گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں تاہم جو گاڑیاں پھنسی ہیں ان میں سیاح نہیں ہیں، وہ گاڑیاں چھوڑ کر خود ہی محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے تھے، اب کلڈانہ باڑیاں کے علاوہ تمام سڑکیں کھول دی گئی ہیں۔

دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مری میں برف باری میں گھرے 300 افراد کو آرمی کے عملے نے طبی امداد دی، متاثرہ افراد میں بچے بھی شامل تھے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جھیکا گلی سے ایکسپریس وے تک راستہ کھول دیا گیا ہے، جھیکا گلی سے کلڈنہ تک راستہ کھل گیا ہے لیکن پھسلن موجود ہے۔ پھسلن کی وجہ سے ٹریفک نہیں چل رہی، گھڑیال سے بھوربن تک راستہ کھلا ہے جبکہ کلڈنہ سے باڑیاں تک راستے کھولنے کے لیے انجینیئرز اور مشینری مصروف ہے۔

پی ٹی اے نے برفباری میں پھنسے افراد کو آن نیٹ مفت کال کی سہولت دیدی

مری اور گلیات میں پھنسے سیاحوں افراد کےلیے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی نے مفت آن نیٹ کال کی سہولت فراہم کردی۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب کے بالائی علاقے اور مشہور سیاحتی مرکز مری اور گلیات میں شدید برفباری کے باعث سیکڑوں گاڑیاں برفباری میں پھنس گئی اور درجنوں سیاح ابدی نیند سوگئے۔

مری اور گلیات کے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی صورتحال تاحال برقرار ہے اور متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کے موبائل فون میں بیلنس بھی ختم ہوچکا ہے۔

متاثرین کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ٹی اے نے فون آپریٹرز کو ہدایت کی تھی جس پر گلیات میں پھنسے صارفین کو زیرو بیلنس پر آن نیٹ مفت کال کی سہولت فراہم کردی ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کو فوری مفت آن نیٹ کال کی سہولت فراہم کردی گئی ہے، صارفین مزید معلومات کیلئے متعلقہ آپریٹرز سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ مری میں شدید برف باری کے باعث ہزاروں سیاح گاڑیوں میں پھنسے ہوئے ہیں، جنھیں نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جب کہ 22 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں.

جی ڈی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گلیات، نتھیاگلی، ایوبیہ، چھانگلہ گلی میں 10 ہزار سے زائد سیاح اس وقت موجود ہیں، اور زیادہ تر فیملیز ہیں، مری روڈ کھلنے کے بعد ہی یہ سیاح ہوٹلز سے نکل سکیں گے۔