شہید اعتزاز حسن کی 7ویں برسی پر سرکار اور ادارے خاموش

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

اپنی جان قربان کرکے سینکڑوں جانیں بچانے والے 15 سالہ شہید اعتزاز حسن کی ساتویں برسی خاموشی سے گزر گئی۔

وفاقی و صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم سمیت کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ سولہ سالہ اس شہید ہیرو کی یاد میں خراج عقیدت، تحسین و ستائش کے چند لفظ جاری کرتا۔

یاد رہے کہ 15 سالہ اعتزاز حسن نے اپنے سکول کی جانب بڑھنے والے خودکش حملہ آور کو اس وقت دبوچ جب سکول میں اسمبلی جاری تھی اور خودکش حملہ آور سکول کے مرکزی دروازے تک آن پہنچا تھا۔

اعتزاز حسن کے دوستوں نے اسے بہت روکا کہ وہ خودکش حملہ آور ہے، اس سے دور بھاگو مگر اس شیردل طالب علم نے خودکش حملہ آور کو موقع پہ ہی اس طرح دبوچا کہ اس کے فرار کی تمام راہیں مسدود ہو گئیں۔

ابراہیم زئی سے تعلق رکھنے والے 15 سالہ اعتزاز کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

اعتزاز حسن 6 جنوری 2014ء جمعرات کے روز اپنے مادر علمی کی، اپنے ساتھی طالب علموں کی حفاظت میں اپنی جان قربان کر گیا۔

سات سال قبل شہید اعتزاز حسن نے اپنی ماں کی گود تو اجاڑی مگر سینکڑوں ماؤں کی گود لٹنے سے بچا لی۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اعتزاز حسن کی قربانی کو سراہا گیا۔

اعتزاز حسن کو اس کی شجاعت اور جرات مندانہ اقدام کے باعث 6 ستمبر 2015ء کو تمغہ شجاعت سے نوازا گیا جبکہ ہیرالڈ میگزین کی جانب سے اسے ’ہیرو آف دی ایئر‘ قرار دیا گیا تھا۔ اعتزاز حسن کو سال 2014ء کے لیے ’ہیرالڈ‘ کی بہترین شخصیت منتخب کیا گیا۔

ہیرالڈ کی سال کی بہترین شخصیت کا ایوارڈ اس پاکستانی شخصیت کو دیا جاتا ہے جو سال بھر خبروں کی دنیا پر چھائے رہے اور انہوں نے اس سال کوئی اہم کام کیا ہو۔

16 دسمبر کو پشاور اسکول پر کیے گئے بہیمانہ حملے کے بعد اعتزاز کی قربانی کو مزید سراہا گیا اور وہ تین طرز کے ووٹنگ کے عمل کے فاتح ٹھہرے۔ ووٹنگ کے لیے آن لائن، بذریعہ پوسٹ اور 10 نامور پاکستانیوں پر مشتمل پینل کی رائے کو مدنظر رکھا گیا۔

حتمی نتیجے میں اعتزاز 24.1 فیصد ووٹ لے کر سرفہرست رہے جبکہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان محض چند ووٹ کی کمی سے دوسرے نمبر پر رہے۔

نوبیل انعام یافتہ اور 2012 میں ہیرالڈ کی بہترین شخصیت کا اعزاز حاصل کرنے والی ملالہ یوسفزئی نے اعتزاز حسن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں بہادر لوگوں کی کمی نہیں، اعتزاز کی کہانی ہمت، بہادری اور جرات کی تابندہ مثال ہے۔