سکالرشپ بند، باجوڑ کے طلبہ کا ایم این اے کی رہائشگاہ کے سامنے احتجاج

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

باجوڑ کے تینوں سرکاری کالجز گورنمنٹ ڈگری کالج خار، گورنمنٹ کالج برخلوزو اور گورنمنٹ کالج ناوگئی کے طلبہ نے سکالرشپ کی بندش کیخلاف بھرپور احتجاج کیا ہے۔

ایم این اے گلداد خان کی رہائش گاہ کے باہر مین روڈ پر احتجاج کے دوران باجوڑ پشاور شاہراہ کئی گھنٹوں تک ہر قسم کے ٹریفک کیلئے بند رہی جبکہ اس موقع پر تینوں گورنمنٹ کالجز ے سینکڑوں طلبہ موجود تھے۔

احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ رہنماؤں نے کہا کہ گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی ہماری سکالرشپ دیے جانے کے معاملے میں ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پشاور بورڈ نے گورنمنٹ کالجز کے طلبہ کو فی طالب علم 6ہزار 1سو روپے سکالرشپ جاری کی ہے جبکہ مقامی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم اب تک ہماری سکالرشپ جاری کرنے میں تاخیر سے کام لے رہے ہیں۔

مظاہرین نے کہا کہ ہم نے کئی بار سڑکیں بند کرکے احتجاج کیا، باجوڑ پریس کلب میں پریس کانفرنس اور احتجاجی مظاہرہ کیا اور آج سے ہم نے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کے گھروں کے سامنے احتجاج کا آغاز کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ باجوڑ کے سرکاری کالجز میں 50 فیصد سے زائد طلبہ ایسے ہیں جن کے پاس داخلوں کی فیس جمع کرانے کی بھی استطاعت نہیں لہذا ہم حکومت، ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارا جائز حق دلائیں بصورت دیگر ہم تعلیمی سلسلہ چھوڑ کر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ باجوڑ کے طلبہ کا یہ ایک دیرینہ مسئلہ ہے جس کیخلاف 15 اکتوبر کو بھی باجوڑ کے سرکاری کالجز کے طلبہ نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔

نمائندہ ٹربل پریس کے مطابق باجوڑ کے تینوں سرکاری کالجز گورنمنٹ ڈگری کالج خار ، گورنمنٹ کالج برخلوزو ، گورنمنٹ کالج ناوگئی کے طلبہ نے کیا جس میں طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

احتجاج ریکارڈ کرانے کے بعد طلبہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی ہمیں سکالرشپ دیے جانے کے معاملے میں ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے۔

طلبہ نے حکام کو پیر تک مہلت دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ مطالبہ منظور نہ ہونے کی صورت وہ منگل سے پورے باجوڑ میں تعلیمی سرگرمیاں چھوڑ کر احتجاجی مظاہروں کا آغاز کریں گے۔