قومی اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں منی بجٹ پیش

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے 360 ارب روپے کا منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا جس کے خلاف ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے فنانس سپلیمینٹری بل 2021ء قومی اسمبلی میں پیش کر دیا۔

اس دوران ایوان میں اپوزیشن نے شدید ہنگامہ آرائی کی۔ اپوزیشن نے احتجاجاً بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرلیا تاہم اسی شور شرابے میں وزیر خزانہ نے فنانس سپلیمنٹری بل 2021ء سے پہلے ضمنی ایجنڈے کے تحت اسٹیٹ بینک کے حوالے سے بل پڑھ دیا۔

اسپیکر ڈائس کے سامنے شگفتہ جمانی اور حکومتی رکن غزالہ سیفی میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

اجلاس میں الیکشن تیسری ترمیم کے آرڈیننس میں 120 دن کی توسیع کی قرارداد بھی منظور کرلی گئی، جس پر پیپلزپارٹی کے سید نوید قمر نے نکتہ اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج ایجنڈے میں مدت ختم ہونے کے بعدآرڈیننس لائے جارہے ہیں.

انہوں کہا کہ 6 آرڈیننسوں کی مدت ختم ہوچکی ہے، مگر لگتا ہے مردے میں جان ڈالی جارہی ہے، اس ایوان میں نئی نئی روایتیں ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

نوید قمر کے اعتراض پر بابر اعوان نے جواب دیا کہ قومی اسمبلی میں مدت سے آرڈیننس پیش ہوتے ہیں،رولز کے مطابق کارروائی چلائی جارہی ہے۔

اپوزیشن ارکان نے برقی توانائی پیداوار کے حوالے سے آرڈیننس کی مدت میں توسیع کی تحریک پر ووٹنگ کو بھی چیلنج کردیا۔ جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے زبانی ووٹنگ کے بجائے باقاعدہ ووٹنگ کا حکم دے دیا.

اسپیکر نے قرارداد کے حق ووٹ دینے والوں کو نشستوں پر کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ تاہم اس پر قرارداد کے حق میں ووٹنگ کے بعد مخالفت کرنے والوں کی ووٹنگ ہوئی تو اپوزیشن کی طرف سے صرف تین ارکان مخالفت میں کھڑے ہوئے، اپوزیشن ارکان کی اکثریت گنتی میں کھڑی نہیں ہوئی۔

حکومت کی جانب بل کے حق میں 145 ووٹ دیئے گئے۔

مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عوام کی زبان بندی کر کے معاشی خودمختاری بیچی جارہی ہے، مدت ختم ہونے والے آرڈیننسز کی مدت میں توسیع کی جارہی ہے، ٹیکس چھوٹ ختم کر کے عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں.

رپورٹ کے مطابق پاکستان کو مت بیچیں پاکستان پر رحم کریں، تین سال سے دوائی، گندم اور چینی والوں کو لوٹ مار کی اجازت دی گئی، 22 کروڑ عوام کی آواز اٹھا رہا ہوں میری آواز بند مت کریں، ایسٹ انڈیا کی حکومت آچکی ہے.

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی خودمختاری سرنڈر کرنا 1971ء کے سرنڈر سے زیادہ خطرناک ہے، ساری قوم شرمسار ہورہی ہے کہ آج ایوان میں کیا ہورہا ہے۔

خواجہ آصف کے اظہار خیال پر اسپیکر قومی اسمبلی نے جواب دیا کہ میں نے آرڈیننس سے متعلق رولنگ دے دی ہے، میں نے رولز کے مطابق توسیع کی رولنگ دی ہے۔

خواجہ آصف نے ایک بار پھر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جو آرڈیننس ایکسپائر ہو چکے ہیں ان میں توسیع نہیں ہو سکتی، توسیع معیاد ختم ہونے سے پہلے ہو سکتی ہے۔ جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آرڈیننس کی مدت میں توسیع کی قرارداد قانونی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ مدت ختم ہونے والے آرڈیننس کو رینیو نہیں کیا جاسکتا، آئی ایم ایف کے پاس قرضوں کیلئے ملک کو گروی رکھا جارہا ہے، کہا گیا ہم ملک میں دودھ شہد کی ندیاں بہا دیں گے.

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ کی عوام آپ کے خلاف فیصلہ سنا چکی ہے، آپ کی رولنگ آئین کی خلاف ورزی ہے، اسپیکر صاحب اس ایوان کے تقدس اور تکریم کا خیال کریں، یہ اسمبلی پاکستان کے معاشی سرنڈر کرنے کے حوالے سے یاد رکھی جائے گی۔

وفاقی وزیر اسد عمر نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جو اپنے ممبرز کو کرسی پر کھڑا نہیں کر سکتے وہ حکومت کیا گرائیں گے، جو مودی کو گھر بلاتے رہے وہ قومی سلامتی کی بات کرتے ہوئے اچھے نہیں لگتے.

انہوں نے کہا کہ یہ کہتے ہیں اسٹیٹ بینک کو آزادی دی تو تباہی آجائے گی، ان میں اور ہم میں فرق ہے، یہ ڈینگی پر کام کریں تو خود ہی اشتہار جاری کرتے ہیں، ہم نے کورونا کے خلاف کام کیا جس کا اعتراف بین الاقوامی اداروں اور دنیا نے کیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ لوگ 10 سال میں ایک روپے کے ترقیاتی کاموں کی منظوری نہیں کرا سکے، گزشتہ چار ماہ میں 400 ارب کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اسی ایوان نے دی۔

اسد عمر نے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ آرڈیننس ایکسپائر ہو چکے ہیں، یہ ایک تکنیکی نکتہ ہے، اپوزیشن سیاستدان خود ایکسپائرڈ ہو چکے ہیں کیا ان کی تقریریں سننا ہم پر لازم ہے.

انہوں نے کہا کہ دنیا نے دیکھا کہ جب ہماری سرحدی خلاف ورزی ہوئی تو ہم نے ان کا جہاز گرایا، انڈین اسکوارڈن لیڈر کو قیدی بنایا، چائے پلائی اور ذلیل کرکے نکالا، دنیا نے دیکھا کیسے ہم نے ملکی دفاع کو محفوظ بنایا مگر ان کا لیڈر تو کہتا تھا کہ ٹانگیں کانپتی ہیں۔

پیپلزپارٹی کے راجا پرویز اشرف نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جس طریقے سے ترامیم کی جا رہی ہیں اس سے پارلیمنٹ کا تقدس پامال ہو رہا ہے، آئین کے تحت چلیں تو دو تہائی اکثریت درکار ہوگی.

انہوں نے کہا کہ آج پارلیمنٹ پر داغ لگایا گیا، قانون سازی کسی جماعت کی نہیں بلکہ 22 کروڑ عوام کیلئے کی جا رہی ہے، خواجہ آصف کے بیان پر اسد عمر نے کیا جواب دیا، سب نے سنا ہوگا، اور قوم مایوس بھی ہوئی ہوگی۔

منی بجٹ : قومی اسمبلی اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن آمنے سامنے

قومی اسمبلی کے اجلاس میں منی بجٹ کے معاملے پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین آمنے سامنے آگئے۔

اجلاس کے آغاز میں ہی اپوزیشن ارکان کا منی بجٹ کے خلاف نکتہ اعتراض، ایوان سے واک آؤٹ، حزب اختلاف کا کورم کا حربہ آج کامیاب نہ ہوسکا۔

تفصیلات کے مطابق اجلاس کا آغاز ہی اپوزیشن کے نکتہ اعتراض سے ہوا۔

سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ منی بجٹ کا سن رہے ہیں، اس پر ایوان کو بتایا جائے حقیقت کیا ہے؟

مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف نے کہا کہ 1971ء کے سرنڈر کے بعد اس سے زیادہ خطرناک سرنڈر اب کیا جارہا ہے، حکمران ملک کی خودمختاری کو سرنڈر کرنے جارہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کی برانچ بن چکا جبکہ اگلے مرحلے پر نیوکلیئر طاقت پر سمجھوتا کیا جائے گا، ہم منی بجٹ اور سٹیٹ بینک بل کی ڈٹ کر مخالفت کریں گے۔

جمیعت علما اسلام (ف) کے زاہد درانی کے نکتہ اعتراض میں مائیک بند کرنے اور وزیر خارجہ کو فلور دینے پر اپوزیشن نے واک آؤٹ کے ساتھ کورم کی نشاندہی کردی البتہ کورم مکمل کرکے حکومت نے اپوزیشن کا حربہ ناکام بنا دیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ غور کرنا ہوگا پاکستان جن مالی مشکلات کا شکار ہے اس کے پیچھے عوام کونسے کارفرما ہیں، معاشی تحفظ کی ذمہ ہماری ہے جسے نبھائیں گے.

انہوں نے کہا کہ جوہری قوت پر قومی اتفاق رائے تھا اور ہے اگر اپوزیشن کے ذہن میں کوئی وسوسہ ہے تو نکال دے۔

بعد ازاں وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن کے سوالات پر حکومت نے بتایا کہ 36 کروڑ کی گاڑیوں کی نیلامی کی گئی کوئی نئی گاڑی وزیراعظم یا کابینہ کے لیے نہیں خریدی گئی۔

حکومت کی اہم اتحادی، مسلم لیگ (ق) کا منی بجٹ کی حمایت کا فیصلہ

دسری جانب منی بجٹ پر حکومتی اتحادیوں اور اپوزیشن کے درمیان مثبت پیش رفت نہ ہونے پر مسلم لیگ (ق) میدان میں آگئی اور اہم اعلان کرڈالا۔

ذرائع کے مطابق منی بجٹ پر حکومتی اتحادیوں سے اپوزیشن کے رابطے بے سود رہے، کسی بھی قسم کی پیش رفت نہ ہونے پر حکومت کی اہم اتحادی مسلم لیگ (ق) نے منی بجٹ کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی مشاورت کے بعد ق لیگ نے فنانس بل کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا، اس حوالے سے سینئر(ق) لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ بل کی کسی شق پر اعتراض ہوا تو اپنی تجاویز دیں گے۔

لیکن قومی اسمبلی میں حکومت کا ساتھ دیا جائے گا، اسکے علاوہ دیگر اتحادی جماعتوں کی جانب سے بھی منی بجٹ کی حمایت کیے جانے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے منی بجٹ کی منظوری کیلئے کابینہ کا اجلاس کل دوبارہ بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

و زیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ اجلاس دن 12 بجے ہوگا، کابینہ خصوصی اجلاس میں فنانس ترمیمی بل کی منظوری دی جائے گی، وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس بھی کل طلب کیا گیا ہے، اجلاس میں ارکان اسمبلی کو منی بجٹ کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی۔