انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی کامیاب کے ایک سال مکمل

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

خیبر پختونخوا میں امراض قلب کے واحد سرکاری ہسپتال پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہو گیا.

ہسپتال انتظامیہ نے ایک سال کی کارکردگی سے متعلق مفصل رپورٹ جاری کردی.

پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی ترجمان رفعت انجم کے مطابق ایک سال کے دوران ہسپتال او پی ڈی میں 29 ہزار سے زائد دل کے مریضوں کا معائنہ کیا گیا.

مطابق 5 ہزار سے زائد انجیو پلاسٹی اور انجیو گرافی پروسیجرز ایک سال کے قلیل عرصہ میں کئے گئے.

پی آئی سی ترجمان کے مطابق ایک سال مکمل ہونے تک پی آئی سی میں گیارہ سو زائد ہارٹ سرجریز کی گئیں،پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی امراض قلب میں مبتلا ہر عمر کے مریض کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں.

انہوں نے کہا کہ پی آئی سی میں امراض قلب میں مبتلا بچوں کا بھی علاج معالجہ کامیابی سے کیا جارہا ہے۔ ایک سال میں ماہر ڈاکٹروں کی زیرنگرانی 2 سو سے زائد بچوں کی اوپن اور کلوز ہارٹ سرجریز کی گئیں۔

ترجمان ہسپتال رفعت انجم کے مطابق پیڈیاٹرک کارڈیالوجی میں 136 بچوں کے دل میں سوراخ آپریشن کئے بغیر ڈیوائس کے ذریعے بند کیے گئے جبکہ ہسپتال کی ایمرجنسی میں سو سے زائد بچوں سمیت 6 ہزار دل کے مریضوں کا مفت علاج کیا گیا۔

ہسپتال میں 7 ہزار سے زائد افراد کا صحت کارڈ کے ذریعے مفت علاج کیا گیا ،ترجمان کے مطابق پشاور انسٹیٹیوٹ اف کارڈیالوجی میں ہمسایہ ملک افغانستان کے شہریوں کا بھی علاج معالجہ کیا جاتا ہے.

انہوں نے کہا کہ ہسپتال کی او پی ڈی میں افغانستان کے امراض قلب میں مبتلا 684 شہریوں کا معائنہ کیا گیا جبکہ 20 افغان شہریوں کی اوپن ہارٹ سرجریز کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق 80 سے زائدافغان شہریوں کی انجیو گرافی اور انجیو پلاسٹی پروسیجرز جبکہ 61 افغان شہریوں کو ایمرجنسی میں مفت علاج کی سہولت فراہم کیا گیا

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ایک سال کے دوران بہترین کارکردگی اس ادارے کی کامیابی اور شہریوں کے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

قلیل عرصہ میں غیر معمولی کارکردگی پر پی آئی سی کا تمام عملہ خراج تحسین کا مستحق ہے۔ پی آئی سی کو خیبر پختونخوا اور پاکستان کے ساتھ ساتھ عالمی سطح کا بہترین ہسپتال بنانے کے لیے پر عزم ہیں ۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے 16 دسمبر 2020 میں ہسپتال کا افتتاح کیا تھا۔