پاکستان کے لیے 2021: سال کی اہم سیاسی پیش رفت

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

سال 2021 پاکستان کی سیاست اور اس کے جمہوری نظام کے لیے ایک انتہائی باعث تفریق سال رہا، ملک نے مختلف واقعات و حالات کا تجربہ کیا، مجموعی طور پر قوم پر جن کے مثبت یا منفی اثرات مرتب ہوئے۔

جمہوریت سیاست میں مختلف آرا، مختلف نظریات اور نقطہ نظر کا احترام کرتی ہے، مخالف رائے کو برداشت کرنا جمہوری سیاست کا ایک موروثی حصہ ہے، حکومت اور اپوزیشن دونوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ملک کے بہترین مفاد میں کام کرنے کے لیے ایک مشترکہ پچ پر رہ کر جمہوری نظام کو فعال بنائیں گے۔

تاہم رواں برس اس سلسلے میں ناقص رہا کیوں کہ عوامی مفاد کے مسائل پر پوائنٹ اسکورنگ سال بھر ایک عام رجحان رہا، عوام کی فلاح و بہبود اور سنجیدہ مسائل جن کے لیے واضح سوچ کے ساتھ پالیسی فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے، و ترجیح نہیں دی گئی، جب کہ مخالف فریق کو نشانہ بنانے کے لیے نان ایشوز قومی عوامی مباحث کا مرکزی نکتہ بنا رہا۔

ذیل میں اس سال کے دوران ہونے والی مختلف سیاسی پیش رفتوں کی نشان دہی کرنے والی کچھ جھلکیاں دی جا رہی ہیں۔

ذکی الرحمان لکھوی کی گرفتاری و سزا

اس سال جنوری میں ایک عدالت نے لشکر طیبہ کے ایک سینئر رہنما ذکی الرحمان لکھوی کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں 5 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے لکھوی کو لشکر طیبہ کے دہشت گرد حملوں کے لیے رقم جمع کرنے اور تقسیم کرنے کا قصوروار پایا۔

تحریک لبیک پاکستان کا احتجاج

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے جنوری میں خبردار کیا تھا کہ اگر حکومت نے فرانسیسی سفیر کو 17 فروری تک ملک بدر کرنے کا اپنا وعدہ پورا نہ کیا تو وہ سڑکوں پر آ جائیں گے۔ اس کے بعد حکومت نے فروری میں ایک نئے معاہدے پر دستخط کیے اور اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لے جانے پر اتفاق کیا، اپریل میں ٹی ایل پی نے اپنے نومبر کے معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔

ٹی ایل پی کے رہنما سعد رضوی کی لاہور میں گرفتاری کے بعد کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے، مظاہرین نے 16 پولیس اہل کاروں کو یرغمال بنا لیا، وفاقی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت ٹی ایل پی پر پابندی لگا دی۔

ٹی ایل پی اس سال اکتوبر میں دوبارہ سڑکوں پر آئی، صوبہ پنجاب امن و امان کے لیے رینجرز کو تعینات کیا، تاہم حکومت نے 10 دن کے پرتشدد مظاہروں، جن میں 7 پولیس اہل کار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے، کے بعد ان کے ساتھ ایک اور معاہدہ کر لیا۔

7 نومبر کو وفاقی کابینہ نے ٹی ایل پی کو کالعدم گروپ قرار دینے کا فیصلہ واپس لیا، اور صوبائی حکومت نے انسداد دہشت گردی کی واچ لسٹ سے رضوی کا نام ہٹا دیا، اور انھیں رہا کر دیا گیا۔

ڈسکہ ضمنی الیکشن

ڈسکہ میں اس سال فروری میں قومی اسمبلی کی ایک نشست پر متنازعہ ضمنی الیکشن ‘انتخابی دھوکا دہی’ کی ایک بہترین مثال بن گیا۔ تشدد، دھاندلی اور 20 سے زائد پریزائیڈنگ افسران کے لاپتا ہونے کی وجہ سے یہ الیکشن خراب ہو گیا، اور اس کے بعد بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری شروع کی گئی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے این اے 75 ڈسکہ (سیالکوٹ-IV) کے ضمنی انتخابات میں دھاندلی میں ملوث اہل کاروں کے خلاف عدالتی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ یہ نشست پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق رکن پارلیمنٹ سید افتخار الحسن شاہ کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی، جس پر افتخار الحسن کی صاحب زادی سیدہ نوشین افتخار اور پی ٹی آئی کے امیدوار علی اسجد ملہی کے درمیان مقابلہ تھا۔

دھاندلی کے الزامات پر معاملہ سپریم کورٹ میں چلا گیا اور بعد ازاں انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دے دیا گیا، دوبارہ الیکشن ہوا جس میں مسلم لیگ ن کی امیدوار نوشین افتخار نے پی ٹی آئی امیدوار کو شکست دے دی۔

سینیٹ الیکشن

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 7 فروری 2021 کو ایوان کے 104 ارکان میں سے 52 کے ریٹائر ہونے پر 11 فروری 2021 کو سینیٹ کے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا۔ سینیٹ کی 37 نشستوں کے لیے پولنگ 3 مارچ 2021 کو ختم ہوئی، حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے ایوان بالا کی 18 نئی نشستیں حاصل کیں، جن میں پنجاب میں اس سے قبل بلامقابلہ منتخب ہونے والی پانچ نشستیں بھی شامل تھیں، یوں پی ٹی آئی سینیٹ میں سب سے بڑا پارلیمانی گروپ بن گیا۔

پیپلز پارٹی ریٹائر ہونے والے پارٹی سینیٹرز کے مقابلے میں 8 نئے سینیٹرز منتخب کروانے میں کامیاب ہوئی۔ مسلم لیگ (ن) جس کے 17 سینیٹرز ریٹائر ہوئے تھے، نے صرف پانچ نئی نشستیں حاصل کیں۔ بلوچستان عوامی پارٹی تھی نے اپنے 3 ریٹائر ہونے والے سینیٹرز کے مقابلے میں 6 مزید نشستیں حاصل کیں اور پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں ان کی تعداد بڑھ کر 13 ہو گئی۔

سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد سے 78 امیدواروں نے مقابلے میں حصہ لیا۔ مشترکہ اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد سے جنرل سیٹ کے ایک اہم ترین مقابلے میں پی ٹی آئی کے عبدالحفیظ شیخ کو شکست دی۔

سینیٹ انتخابات سے قبل سپریم کورٹ نے یکم مارچ 2021 کو سینیٹ انتخابات کے حوالے سے صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 226 کے مطابق پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے لیے انتخابات خفیہ رائے شماری کے ذریعے کرائے جائیں گے۔

پی ڈی ایم کی سیاست اور پیپلز پارٹی

وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) ستمبر 2020 میں قائم کیا گیا تھا، پی پی پی اور مسلم لیگ ن اس اتحاد کے مرکزی اراکین میں شامل تھیں، لیکن یہ اتحاد زیادہ دیر تک متحد رہنے میں ناکام رہا اور پیپلز پارٹی 12 اپریل 2021 کو اس اتحاد سے نکل گئی۔

اس اتحاد کے سیکریٹری جنرل شاہد خاقان عباسی کی جانب سے پیپلز پارٹی کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر یوسف رضا گیلانی کو نامزد کرنے پر شوکاز نوٹس دیا گیا تھا۔

اتحاد سے علیحدگی سے قبل ہی اسمبلیوں سے استعفوں کے حوالے سے مختلف رائے پر پیپلز پارٹی پر ن لیگ سمیت دیگر جماعتیں تنقید کر رہی تھیں، بلاول کا کہنا تھا کہ اسمبلیوں سے استعفے آخری آپشن ہونا چاہیے۔ پیپلز پارٹی ہی نے اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو ضمنی انتخابات میں حصہ لینے پر آمادہ کیا تھا، جو زیادہ تر اپوزیشن جماعتوں نے جیتے تھے۔ پی پی سے قبل عوامی نیشنل پارٹی نے بھی پی ڈی ایم کو چھوڑ دیا تھا۔

پی ڈی ایم اب پانچ جماعتوں پر مشتمل ہے جن میں مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی شامل ہیں۔

قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ

اپریل میں سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے والی نظرثانی کی درخواستیں منظور کیں، جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی، 19 جون 2020 کو عدالت نے ایف بی آر کو جسٹس عیسیٰ کی شریک حیات کے آف شور اثاثوں سے متعلق تحقیقات کا اختیار دیا تھا۔

عدالت نے جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کے اثاثوں سے متعلق ایف بی آر اور دیگر تمام فورمز کی جانب سے کیے گئے قانونی اقدامات کو ’غیر قانونی‘ قرار دے دیا۔

صدارتی ریفرنس: جسٹس عیسیٰ مئی 2019 کو دائر صدارتی ریفرنس کا موضوع تھے، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے لندن میں 2011 سے 2015 کے درمیان اپنی اہلیہ اور بچوں کے نام لیز پر تین جائیدادیں حاصل کیں لیکن انھیں ٹیکس ریٹرن میں ظاہر نہیں کیا، جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ وہ براہ راست یا بلواسطہ فلیٹس کے بینیفشل مالک نہیں ہیں۔

جہانگیر ترین کا ہم خیال گروپ

پی ٹی آئی کے ناراض رہنما جہانگیر ترین نے مئی میں پارلیمنٹ کے ایوان زیریں اور پنجاب اسمبلی میں ہم خیال اراکین پارلیمنٹ کا ایک گروپ لانچ کیا۔ راجہ ریاض کو قومی اسمبلی میں جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کا پارلیمانی لیڈر جب کہ سعید اکبر نوانی کو پنجاب اسمبلی میں گروپ کا پارلیمانی لیڈر نامزد کیا گیا، ترین کی طرف سے ہم خیال حامیوں کے لیے گروپ کے افتتاحی عشائیے میں 31 اراکین اسمبلی نے شرکت کی تھی۔

یہ گروپ دراصل شوگر اسکینڈل میں جہانگیر ترین کے خلاف انکوائری اور مقدمات کے درمیان منظر عام پر آیا تھا، اس نے ایک پریشر گروپ کے طور پر کام کیا، لیکن وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ حکومت شوگر اسکینڈل کی تحقیقات میں ایف آئی اے پر اثرانداز نہیں ہوگی۔

ترین کے وکیل کے مطابق ترین اور ان کے بیٹے کے خلاف 3 ایف آئی آرز ہیں جب کہ ایف آئی اے نے ساڑھے چار ماہ کے عرصے کے بعد صرف 2 مقدمات درج کیے تھے۔ 22 مارچ کی ایف آئی آر کے مطابق ترین اور ان کے بیٹے کے خلاف مجرمانہ طور پر اعتماد کی خلاف ورزی، عوامی شیئر ہولڈرز کے ساتھ دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے مقدمات درج کیے گئے۔

سینیٹر علی ظفر نے وزیر اعظم عمران خان کو رپورٹ دی کہ شوگر اسکینڈل میں دیگر لوگوں کا بھی نام آیا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ کیس میں صرف ترین سے تفتیش ہو رہی ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈز الیکشن

ستمبر کے انتخابات میں ملک کے 41 کنٹونمنٹ بورڈز میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں زیادہ تر نشستیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جیتیں۔ پی ٹی آئی نے 63 نشستیں، پاکستان مسلم لیگ ن 59 نشستیں، آزاد امیدواروں نے 52 نشستیں، پیپلز پارٹی نے 17 نشستیں، ایم کیو ایم نے 10، جماعت اسلامی نے 7 نشستیں حاصل کیں۔

پاکستانی طالبان سے مذاکرات

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے پاکستان کے ساتھ جنگ ​​بندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو امن مذاکرات رک گئے، یکم اکتوبر کو وزیراعظم عمران خان نے ٹی آر ٹی ورلڈ کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں کہا کہ حکومت کالعدم ٹی ٹی پی کے کچھ دھڑوں سے افغانستان میں بات چیت کر رہی ہے، افغان طالبان نے بھی اس سلسلے میں مدد کی، طالبان اگر ہتھیار ڈال دیں تو حکومت انھیں معاف کر سکتی ہے۔

اس کے اعلان کے بعد 9 نومبر کو ایک ماہ کی جنگ بندی پر عمل درآمد شروع ہو گیا۔

ٹی ٹی پی نے 2007 میں اپنے قیام کے بعد سے، پاکستان میں کچھ مہلک ترین حملے کیے ہیں، جن میں عام شہریوں، سیاسی رہنماؤں اور سیکیورٹی فورسز کو خودکش بم دھماکوں، دیسی ساختہ بموں (آئی ای ڈی) کے حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔

چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کا صدارتی آرڈیننس

اکتوبر میں ایک آرڈیننس کے ذریعے صدر مملکت کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کی دوبارہ تقرری کا اختیار حاصل ہو گیا تھا، قومی احتساب کے دوسرے ترمیمی آرڈیننس 2021 نے چیئرمین نیب کی تقرری میں اپوزیشن کے کردار کو بھی مزید بڑھا دیا۔

اس آرڈیننس کے مطابق وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکسیشن، دیگر لیویز یا محصولات، بشمول ریفنڈز، یا ٹیکسیشن سے منسلک خزانے کے نقصان سے متعلق تمام امور ریونیو یا بینکنگ قوانین کے مطابق نمٹائے جائیں گے اور ان کو احتساب عدالتوں سے مجاز دائرہ اختیار کی عدالتوں کو منتقل کیا جائے گا۔

آرڈیننس نے قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) کے سیکشن 6 کے ذیلی سیکشن بی میں ترمیم کرتے ہوئے قانون سے لفظ “نا قابل توسیع” کو خارج کر کے چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع دے دی، تاہم، نیب کے چیئرمین کی تقرری پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور قائد ایوان کے درمیان مشاورت کرنے کی شرط کو برقرار رکھا گیا۔

جام کمال کے مستعفی ہونے کے بعد قدوس بزنجو وزیر اعلیٰ بن گئے

ایک ماہ تک جاری رہنے والی سیاسی کشمکش کے بعد جام کمال خان نے 20 اکتوبر کو وزیر اعلیٰ بلوچستان کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

جام کمال پر اپنی ہی پارٹی بی اے پی اور اتحادیوں کے ناراض اراکین کے گروپ کی جانب سے عہدے سے مستعفی ہونے کا شدید دباؤ تھا، جس کا انھوں نے کچھ وقت تک مقابلہ کیا، تاہم انھیں مستعفی ہونا پڑ گیا، اور 29 اکتوبر کو عبدالقدوس بزنجو نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا منصب سنبھال لیا۔

جون کے اوائل میں اپوزیشن اراکین نے صوبائی اسمبلی کی عمارت کے باہر کئی دنوں تک دھرنا دیا، حلقوں کے لیے ترقیاتی فنڈز سے انکار پر یہ اراکین احتجاج کر رہے تھے، جس کے نتیجے میں افراتفری پھیل گئی اور پولیس نے بعد میں اپوزیشن کے 17 قانون سازوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

بعد میں اپوزیشن جماعتوں کے 16 ارکان نے وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی، تاہم گورنر ہاؤس سیکریٹریٹ نے تکنیکی بنیادوں پر تحریک بلوچستان اسمبلی کو واپس کر دی۔ اپوزیشن ارکان نے دعویٰ کیا کہ تحریک پیش کرنے کے دن جام کمال کے خلاف دستخط کرنے کی وجہ سے 3 خواتین اور ایک مرد ایم پی اے لاپتا ہو گئے ہیں، جو بعد میں اسلام آباد میں منظر عام پر آ گئے۔ ایم پی اے اکبر آسکانی، بشریٰ رند، لیلیٰ ترین اور ماہ جبین شیران حکومت بلوچستان کے سرکاری طیارے میں کوئٹہ واپس پہنچ گئے۔

ڈاکٹر عشرت العباد کی واپسی کی افواہوں

اکتوبر میں کراچی میں افواہیں پھیل گئیں کہ سابق گورنر سندھ عشرت العباد ایم کیو ایم کے الگ ہونے والے گروپوں کو متحد کرنے کے لیے کراچی واپس آنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں کو حریف رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ کی مسلسل جنگ بندی پر راضی کرنے کے لیے ایک اور اقدام کے آغاز ہوا، دبئی میں مقیم سابق گورنر سندھ عشرت العباد کی واپسی کی افواہیں پھیلنے لگیں۔ سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے اکتوبر میں دبئی میں عشرت العباد سے ملاقات کی، اور پاکستان واپس آنے کی درخواست کی۔

نومبر میں ایم کیو ایم کے سابق کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی ان سے ملاقات کی، اس ملاقات میں انھوں نے سیاسی محاذ بنانے کے علاوہ، ملکی سیاست بالخصوص کراچی میں تعمیری کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا۔

ای وی ایم قانون، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق

حکومت نے 17 نومبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں 33 بل منظور کیے، اپوزیشن نے مخالفت کی، ان میں سب سے اہم الیکشنز ایکٹ 2017 میں ترامیم تھیں، جس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا تھا۔

221 قانون سازوں نے تحریک کے حق میں ووٹ دیا جب کہ 203 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ بل نے ای سی پی کو عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں خریدنے کا اختیار بھی دیا۔

این اے 133 کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کی کامیابی

6 دسمبر کو لاہور کے این اے 133 میں ضمنی الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے پاکستان مسلم لیگ ن کا سخت مقابلہ کیا، جب کہ پی ٹی آئی کے امیدوار تکنیکی بنیادوں پر الیکشن سے خارج ہو گئے تھے۔

مسلم لیگ (ن) کی شائستہ پرویز ملک نے 46,811 ووٹ حاصل کیے جب کہ پیپلز پارٹی کے چوہدری اسلم گل 32,313 ووٹ حاصل کر سکے تھے۔ یہ نشست مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے پرویز ملک کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی، جنھوں نے اس وقت 90،000 سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔

پنجاب میں مسلم لیگ ن کے گڑھ میں اپنے قدم جمانے کے لیے آصف علی زرداری نے اپنی صحت کے مسائل کے باوجود پی پی امیدوار کی انتخابی مہم کے سلسلے میں کئی دنوں تک لاہور میں ڈیرے ڈالے، جس سے پی پی کے ووٹ میں کافی اضافہ ہوا۔

گوادر میں حقوق کے لیے احتجاج

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ایک ماہ سے زائد عرصے تک خواتین اور بچوں سمیت دسیوں ہزار افراد نے احتجاج کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں شہر کی اہم سڑکوں پر مارچ کیا، اور دھرنا دیا۔ وہ شہر میں صحت کی سہولیات اور پینے کے پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ ان کی روزی روٹی پر قبضہ کرنے والے بڑے فشنگ ٹرالرز پر پابندی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد گوادر کے مکینوں نے اپنا دھرنا ختم کر دیا۔ احتجاج 28 ویں روز میں داخل ہوا تو وزیر اعظم عمران نے “گوادر کے ماہی گیروں” کے “انتہائی جائز مطالبات” کا نوٹس لیا۔

صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی میر ظہور احمد بلیدی نے گوادر احتجاجی تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کے ساتھ مذاکرات کے فوراً بعد ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں۔

افغانستان پر او آئی سی کا مؤقف

افغانستان کے سلسلے میں 19 دسمبر کو اسلام آباد میں سعودی عرب کی جانب سے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے بلائے گئے سربراہی اجلاس کی میزبانی پاکستان نے کی، جس میں 20 وزرائے خارجہ، 10 نائب وزرائے خارجہ اور 437 مندوبین نے شرکت کی، تنظیم نے افغانستان سے متعلق فیصلہ کیا کہ اسلامی ترقیاتی بینک کے تحت ایک ہیومینٹیرین ٹرسٹ فنڈ قائم کیا جائے اور اقوام متحدہ کے ساتھ بات چیت شروع کی جائے۔

عالمی رہنماؤں، حکومتی عہدیداروں، سفارت کاروں اور تجزیہ کاروں نے 57 رکنی او آئی سی اجلاس کو پاکستان کی ایک اہم ترین کامیابی قرار دیا۔ وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کرنے والے مسلم دنیا کے رہنماؤں نے افغانستان میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران کو روکنے کے لیے فوری اور متحد اقدام کا مطالبہ کیا، جو بصورت دیگر عالمی امن کو متاثر کر سکتا ہے۔

اپنے خطاب میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا کہ اقتصادی مشکلات انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہیں اور مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہیں جس سے علاقائی اور بین الاقوامی امن متاثر ہو گا۔

خیبر پختون خوا بلدیاتی الیکشن میں اپوزیشن کی کامیابی

سال 2021 کے اختتامی دنوں میں ایک بڑی سیاسی پیش رفت میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) سے ہار گئی۔

پی ٹی آئی کے گڑھ صوبے میں یہ ایک غیر متوقع پیش رفت تھی جو پی ٹی آئی کی حکومت کے چوتھے سال میں ملک میں سیاسی منظرنامے میں ممکنہ تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بالعموم اور جے یو آئی نے خاص طور پر پشاور کے میئر سمیت بلدیاتی انتخابات میں اہم نشستیں جیتیں۔

شکست کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے پارٹی اجلاس میں فیصلہ کیا کہ اب وہ خود امیدواروں میں ٹکٹوں کی تقسیم کی نگرانی کریں گے۔ اجلاس میں تمام تنظیمی سیٹ اپ کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اور ایک نئے سیاسی پلان کے تحت پارٹی کی سپریم کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں صوبوں کی نمائندگی کے ساتھ 21 اراکین شامل تھے۔