خیبر پختونخوا : داعش کے 110 دہشتگرد مارے جانے کا دعویٰ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ سی ٹی ڈی آپریشنز میں 110 دہشت گرد مارے گئے۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں کالعدم داعش کا بڑی کاروائیوں کا ارادہ تھا، تاہم نئے قبائلی اضلاع میں سی ٹی ڈی نے پاک فوج کی مدد سے بھرپور کاررائیاں کیں اور حالات کو قابو میں رکھا۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ رواں سال سب سے بڑا اور بدترین واقعہ داسو کا تھا، داسو واقعہ میں ملوث تمام دہشت گردوں کو انٹیلی جنٹس کے تعاون سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

پشاور میں پولیو ٹیموں پر حملوں کے 6 واقعات ہوئے، جس میں داعش کے دہشت گرد ملوث تھے، پشاور سی ٹی ڈی سے مقابلوں میں داعش کے 3 بڑے گروپس کے کارندے مارے گئے، جب کہ دو درجن دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا.

انہوں نے کہا کہ بنوں ریجن میں بھی پولیو ٹیم پر مامور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جنوبی اصلاع میں دہشت گردی کرنے والے 9 دہشت گرد مارے گئے۔

جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی آپریشنز میں 110 دہشت گرد مار گئے، بنوں میں داعش کا اہم دہشت گرد ابوبکر مارا گیا جو پولیس کے 24 اہلکاروں کے قتل میں ملوث تھا.

انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ میں دہشت کی علامت سمجھنے والے مکرم کو بھی مار دیا گیا، حکومت نے مکرم کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کررکھی تھی۔

رپورٹ کے مطابق پورے سال میں سی ٹی ڈی نے 599 دہشتگرد گرفتار کئے گئے۔

دسری جانب آئی جی خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ افغان صورتحال کے بعد صوبے میں فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

خیبر پختونخوا کے آئی جی معظم جاہ انصاری نے ایک بیان میں کہا کہ دہشتگردی روکنے والوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا۔

افغان صورتحال کے بعد صوبے میں فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے تاہم بہتر حکمت عملی کے باعث 4 ماہ میں دہشتگردی کا کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔

آئی جی خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ فرائض کی ادائیگی کے دوران 48 جوان شہید ہوئے جبکہ کاؤنٹر ٹیررازم نے 599 دہشتگردوں کو گرفتار کیا اور 5 خودکش جیکٹس برآمد کیں۔

50 ہزار سے زائد مختلف بور کا اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔ آئی جی خیبر پختونخوا کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے 350 دہشتگردوں کے سروں کی قیمت مقرر کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پولیو مہم کے دوران پولیس جوانوں کو نشانہ بنایا گیا۔