پاکستان کی خارجہ پالیسی کو تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات کے مطابق مرتب کرنا ہوگا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمیں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات کے مطابق مرتب کرنا ہوگا، اقتصادی سفارت کاری صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ہمارے ترقیاتی ایجنڈے اور ہمارے سفارتی اثاثوں سے فائدہ اٹھانے کا ایک جامع خاکہ ہے۔

بدھ کو فارن سروس اکیڈمی میں منعقدہ پروبیشنرز کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دفترخارجہ کی طرف سے یہاں اور بیرون ملک ہمارے مشنز کے ذریعے فراہم کردہ قونصلر خدمات ہماری خصوصی ذمہ داری ہے جنہیں آپ نے بھی احسن طریقے سے ادا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو عزت دینے اور ان کی دل و جان سے خدمت کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیرخارجہ نے پروبیشنرز سے کہا کہ آپ کو چاہیے کہ اپنی تعلیمی استعداد میں اضافہ کریں، لکھیں، تجزیہ کریں۔ اپنے آپ کو اپنی میز پر موجود فائلوں تک محدود نہ رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنے آپ کو اپڈیٹ رکھیں، اپنی حاصل کردہ تعلیم و تربیت کو ملک کی بے لوث خدمت کیلئے بروئے کار لانے کی کوشش کریں اور ہمیشہ اپنے حوصلے کو بلند رکھیں اور وسائل کی رکاوٹوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آگے بڑھیں اور ڈیجیٹل دور کے چیلنجزکو ہمیشہ ذہن نشین رکھیں.

وزیرخارجہ نے کہا کہ ایک نئی دنیا ہمارے سامنے ہے، جس کے ذریعے ہمیں طاقت کے متعدد مراکز کا سامنا احتیاط اور دور اندیشی کے ساتھ کرنا ہے، ہمیں ادراک ہونا چاہیے کہ آج سفارتی کام کئی گنا بڑھ گیا ہے، یک قطبی دنیا اب ایک عقبی منظر کا حصہ بن چکی ہے۔

کثیرالجہتی میکانزم جو ثالثی اور تنازعات کے حل کے لیے قائم کیے گئے تھے اپنی افادیت کھو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے چیلنج نے صحت عامہ سے متعلقہ نظام کی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس نے عالمی معاشی نظاموں کو شدید متاثر کیا ہے اور طویل مدتی جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے امکانات واضح کیے ہیں۔

بین الاقوامی تعلقات اور خارجہ پالیسی کو چلانے کے روایتی ذرائع کو تیز رفتار عالمی ادراک کی صنعت نے پیچھے چھوڑ دیا ہے، سافٹ پاور نے پہلے ہی روایتی جنگ کی جگہ لے لی ہے۔ دنیا، معلومات، غلط معلومات کی جنگ کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم میڈیا کے کردار میں بہت بڑی تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال رائے کو متاثر کرنے اور ایجنڈوں کو آگے بڑھانے کے لیے بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ ا

ن بدلتے ہوئے رجحانات کے پس منظر میں، جغرافیائی سیاست نئے ابھرتے ہوئے عوامل اور غور و فکر کی صلاحیت کو بڑھانے کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ان بدلتے ہوئے رجحانات کے مطابق مرتب کرنا ہو گا اور اپنے مفادات کو سرفہرست رکھتے ہوئے.

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بیرونی ماحول سے گزرنا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی محفوظ ہے اور پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔