پاراچنار : پبلک لائبریری کی مسماری کیخلاف احتجاج

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

 پاراچنار کی مختلف تنظیموں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پبلک لائبریری کی مسماری اور افسران کیلئے رہائش گاہ کی تعمیر کیخلاف احتجاج کیا اور اعلیٰ حکام سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔

پریس کلب پاراچنار کے سامنے صدائے مظلومین کے رہنماء مولانا مزمل حسین، شفیق مطہری، ٹیچرز ایسوسی ایشن کے عنایت بنگش، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ضلعی کوآرڈینیٹر صابر بنگش، پاکستان انقلابی پارٹی کے رہنما مجاہد طوری، پاکستان یوتھ موومنٹ کے رہنما میر افضل طوری، سماجی رہنماء مظہر طوری نے احتجاجی مظاہرین سے خطاب کیا.

رہنماؤں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پاراچنار کی واحد لائبریری کو آباد کرنے کی بجائے اس کو مسمار کرکے ان میں مختلف ڈیپارٹمنٹس کے افسران کیلئے رہائشگاہ اور واش روم تعمیر کرنا ایک غیر منصفانہ اور علم دشمن اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے کی ترقی میں علم و فکر کا ہی دخل رہا ہے اور کتب خانے قوموں کو تخلیقی و تعمیری رحجانات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مگر افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ضلعی انتظامیہ علم دشمن پالیسی پر گامزن ہوکر صدر مقام کی واحد اور تاریخی لائبریری کو رہائش گاہ میں تبدیل کیا جارہا ہے جو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

رہنماؤں نے کہا کہ حسب وعدہ لائبریری کو دوبارہ فعل کرکے ڈیجیٹل سسٹم سے منسلک کیا جائے، اس حوالے سے عدالت سے بھی رجوع کر چکے ہیں اور جب تک ضلعی انتظامیہ اپنا فیصلہ واپس نہیں لیتی تب تک وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

بعد ازاں مظاہرین نے پریس کلب سے پبلک لائبریری تک واک کی اور لائبریری مسماری کے خلاف نعرے بازی کی۔

واضح رہے کہ مذکورہ لائبریری کو 1982ء میں اس وقت کے گورنر این ڈبلیو ایف پی لیفٹننٹ جنرل (ر) فضل حق نے تعمیر کیا تھا اور 2007 کی بدامنی کے بعد لائبریری کی عمارت نگہداشت نہ ہونے کے باعث کھنڈرات میں تبدیل ہوگئی تھی.

بعد ازاں پاک فوج نے لائبریری کی مرمت، رنگ و روغن کرکے الماریاں اور کتابیں مہیا کیں اور ایک جدید طرز پر کمپوٹر لیب بھی قائم کیا تھا۔