پاکستان، ایران ترکی کے درمیان مال بردار ٹرین کا افتتاح کر دیا گیا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لیے مال بردار ٹرین سروس کا آغاز ہوگیا۔

افتتاحی تقریب میں ایران و ترکی کے سفیروں کے ساتھ وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، تجارت کیلیے وزیراعظم کے مشیر سیٹھ رزاق داؤد اور وزیر ریلوے اعظم خان سواتی بھی موجود تھے۔

پاکستان کے وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے مارگلہ ریلوے اسٹیشن پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کے ہمراہ اسلام آباد – تہران – استنبول (آئی ٹی آئی) مال بردار ٹرین کا افتتاح کیا۔

اس موقع پر ترکی، ایران، قازقستان اور ازبکستان کے سفارت کار بھی موجود تھے۔

مال بردار ٹرین سروس معاشی کارکردگی بڑھاتے ہوئے ای سی او رکن ممالک کی معیشت اور شہریوں کی زندگی بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی اور اس سے کاروبار کرنے کے اخراجات میں کمی ہوگی۔

وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے آئی ٹی آئی مال بردار ٹرین کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سروس خطے میں کاروبار اور روابط کے لیے دروازے کھولے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مسافروں کے لیے جلد ٹرین سروس کا آغاز جائے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تجارت کے لیے اپنے روٹس کھولے ہیں جو درآمد و برآمد کنندگان کے لیے بڑی سہولت ہے۔

آئی ٹی آئی مال بردار ٹرین کو پاکستان کی تاریخ میں اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ٹرین تاجر برادری کے درمیان کاروباری روابط مزید بڑھائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سروس سے تینوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

اس موقع پر مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تجارت سے متعلق حکمت عملی میں خطے میں روابط اہم ستونوں میں سے ایک ہے اور آئی ٹی آئی مال بردار ٹرین کی بحالی خوش آئند ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آئی ٹی آئی مال بردار ٹرین کی بحالی کے اقدام کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ یہ سروس خطے میں روابط اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

ترک سفارت کار مصطفیٰ یرداکل نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین سروس استنبول میں نہیں رکے گی بلکہ پورے یورپ میں جائے گی، کورونا کے بعد معیشتیں واپس بہتری کی جانب بڑھ رہی ہیں، اس ٹرین سروس سے تمام خطوں کے ممالک مستفید ہوسکیں گے۔

اسلام آباد سے روانہ ہونے والی مال گاڑی، پاکستان کے اندر 1990کلومیٹر کا فاصلہ طئے کرکے تفتان کے راستے ایران داخل ہوگی جہاں زاہدان اسکا پہلا پڑاؤ ہوگا، وہاں سے مزید 2603کلومیٹر سفر کرکے ریل گاڑی ترکی پہنچے گی اور 1850کلومیٹر کا مزید سفر اسے منزل مقصود پر پہنچادیگا۔

تیرہ بوگیوں پر مشتمل پہلی ریل گاڑی میں مال ڈھونے کی گنجائش 80ہزار ٹن ہے۔ اسلام آباد سے استنبول کی مسافت 14دن میں طئے ہوگی۔

افتتاحی گاڑی پر چاول، کھجور اور پاکستان کا مشہور زمانہ گلابی نمک لدا ہوا ہے۔ اس ریل سے پاکستان ریلوے کو پہلے سال سوا تین کروڑ ڈالر آمدنی کی توقع ہے۔

پاکستان ریلوے کے مطابق پاکستان اور استنبول کے درمیان پہلی ٹرین کا افتتاح 14 اگست 2009 کو ہوا تھا، اسی طرح استنبول سے پہلی ٹرین 13 اگست 2010 کو اسلام آباد پہنچی تھی۔

اب تک پاکستان اور ترکی کے درمیان 8 ٹرینیں سفر مکمل کرچکی ہیں، 2009 میں سروس کے آغاز کے بعد آخری ٹرین 5 نومبر 2011 کو لاہور بندرگاہ سے روانہ ہوئی تھی۔

ترکی، پاکستان میں 6 ٹرینیں بھیج چکا ہے اور آخری ٹرین 9 دسمبر 2011 کو پاکستان پہنچی تھی۔

ریلوے کے سینئر عہدیدار نے کہا کہ آئی ٹی آئی فریٹ ٹرین ہر ہفتے چلائی جائے گی، ابتدائی طور پر فریٹ ٹرین کی نو گاڑیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹرین شروع کرنے کے موجودہ انتظامات اور ترکی، ایران اور پاکستان کے درمیان طے کردہ مشترکہ شیڈول کے مطابق ٹرین ڈرینز ۔

کپیکوئے (استنبول) اور زاہدان ۔ تبریز (ایران) کے درمیان 90 گھنٹے میں سفر مکمل کرے گی اور زاہدان سے اسلام آباد 135.5 گھنٹے میں پہنچے گی۔

پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لیے مال بردار ٹرین سروس کا آغاز ہوگیا۔

افتتاحی تقریب میں ایران و ترکی کے سفیروں کے ساتھ وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، تجارت کیلیے وزیراعظم کے مشیر سیٹھ رزاق داؤد اور وزیر ریلوے اعظم خان سواتی بھی موجود تھے۔

پاکستان کے وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے مارگلہ ریلوے اسٹیشن پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کے ہمراہ اسلام آباد – تہران – استنبول (آئی ٹی آئی) مال بردار ٹرین کا افتتاح کیا۔

اس موقع پر ترکی، ایران، قازقستان اور ازبکستان کے سفارت کار بھی موجود تھے۔

مال بردار ٹرین سروس معاشی کارکردگی بڑھاتے ہوئے ای سی او رکن ممالک کی معیشت اور شہریوں کی زندگی بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی اور اس سے کاروبار کرنے کے اخراجات میں کمی ہوگی۔

وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے آئی ٹی آئی مال بردار ٹرین کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سروس خطے میں کاروبار اور روابط کے لیے دروازے کھولے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مسافروں کے لیے جلد ٹرین سروس کا آغاز جائے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تجارت کے لیے اپنے روٹس کھولے ہیں جو درآمد و برآمد کنندگان کے لیے بڑی سہولت ہے۔

آئی ٹی آئی مال بردار ٹرین کو پاکستان کی تاریخ میں اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ٹرین تاجر برادری کے درمیان کاروباری روابط مزید بڑھائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سروس سے تینوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

اس موقع پر مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تجارت سے متعلق حکمت عملی میں خطے میں روابط اہم ستونوں میں سے ایک ہے اور آئی ٹی آئی مال بردار ٹرین کی بحالی خوش آئند ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آئی ٹی آئی مال بردار ٹرین کی بحالی کے اقدام کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ یہ سروس خطے میں روابط اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

ترک سفارت کار مصطفیٰ یرداکل نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین سروس استنبول میں نہیں رکے گی بلکہ پورے یورپ میں جائے گی، کورونا کے بعد معیشتیں واپس بہتری کی جانب بڑھ رہی ہیں، اس ٹرین سروس سے تمام خطوں کے ممالک مستفید ہوسکیں گے۔

اسلام آباد سے روانہ ہونے والی مال گاڑی، پاکستان کے اندر 1990کلومیٹر کا فاصلہ طئے کرکے تفتان کے راستے ایران داخل ہوگی جہاں زاہدان اسکا پہلا پڑاؤ ہوگا، وہاں سے مزید 2603کلومیٹر سفر کرکے ریل گاڑی ترکی پہنچے گی اور 1850کلومیٹر کا مزید سفر اسے منزل مقصود پر پہنچادیگا۔

تیرہ بوگیوں پر مشتمل پہلی ریل گاڑی میں مال ڈھونے کی گنجائش 80ہزار ٹن ہے۔ اسلام آباد سے استنبول کی مسافت 14دن میں طئے ہوگی۔

افتتاحی گاڑی پر چاول، کھجور اور پاکستان کا مشہور زمانہ گلابی نمک لدا ہوا ہے۔ اس ریل سے پاکستان ریلوے کو پہلے سال سوا تین کروڑ ڈالر آمدنی کی توقع ہے۔

پاکستان ریلوے کے مطابق پاکستان اور استنبول کے درمیان پہلی ٹرین کا افتتاح 14 اگست 2009 کو ہوا تھا، اسی طرح استنبول سے پہلی ٹرین 13 اگست 2010 کو اسلام آباد پہنچی تھی۔

اب تک پاکستان اور ترکی کے درمیان 8 ٹرینیں سفر مکمل کرچکی ہیں، 2009 میں سروس کے آغاز کے بعد آخری ٹرین 5 نومبر 2011 کو لاہور بندرگاہ سے روانہ ہوئی تھی۔

ترکی، پاکستان میں 6 ٹرینیں بھیج چکا ہے اور آخری ٹرین 9 دسمبر 2011 کو پاکستان پہنچی تھی۔

ریلوے کے سینئر عہدیدار نے کہا کہ آئی ٹی آئی فریٹ ٹرین ہر ہفتے چلائی جائے گی، ابتدائی طور پر فریٹ ٹرین کی نو گاڑیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹرین شروع کرنے کے موجودہ انتظامات اور ترکی، ایران اور پاکستان کے درمیان طے کردہ مشترکہ شیڈول کے مطابق ٹرین ڈرینز ۔

کپیکوئے (استنبول) اور زاہدان ۔ تبریز (ایران) کے درمیان 90 گھنٹے میں سفر مکمل کرے گی اور زاہدان سے اسلام آباد 135.5 گھنٹے میں پہنچے گی۔