ایرانی وزیرخارجہ سے آرمی چیف اور وزیراعظم کی ملاقات

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ او آئی سی اجلاس افغانستان کےلیے تاریخی کردار ادا کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران کیا

گفتگو کے دوران افغانستان کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا جب کہ دونوں رہنماؤں نے دفاعی اور سیکیورٹی تعاون سمیت پاک ایران بارڈر سیکیورٹی میکنزم پر بھی بات چیت کی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے افغانستان کی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام پر پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور بارڈر مینجمنٹ، علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کیساتھ برادرانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے کیوں کہ پاک ایران تعلقات برادرانہ اور تاریخی نوعیت کے ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایران وزیر خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ دونوں ملکوں میں گزشتہ سالوں میں دفاعی تعاون مزید فروغ پایا ہے۔

آخر میں دونوں جانب سے علاقائی اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق ہوا۔

دسری جانب وزیراعظم عمران خان سے ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹرعبداللہیان نے ملاقات ہے جس میں وزیراعظم ‏نےایرانی وزیرخارجہ کاپاکستان کےپہلےدورہ پرخیرمقدم کیا۔

ایرانی وزیرخارجہ کوافغان صورتحال پرپاکستان کےنقطہ نظرسےآگاہ کیاگیا۔ دوطرفہ تناظرمیں ‏وزیراعظم عمران خان نےبرادرانہ دوطرفہ تعلقات پر گفتگو کی اور دونوں ممالک کے تعلقات کو ‏مزید مضبوط بنانےکےعزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نےکشمیرپرایران کےسپریم لیڈرکی جانب سےمسلسل حمایت کوسراہا اور صدررئیسی کو ‏دورہ پاکستان کی دعوت کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کو فوری بین الاقوامی انسانی امداد کی ضرورت ہے او آئی سی کے ‏رکن ممالک کوافغانستان کی مدد کےلیےکام کرنا ہو گا بین الاقوامی برادری افغانستان میں ترقی کے ‏لیے راستہ تلاش کریں۔

ایرانی وزیرخارجہ ڈاکٹرعبداللہیان نے او آئی سی اجلاس کی میزبانی کےپاکستان کےفیصلےکو سراہا ‏اور دوطرفہ تعلقات کےفروغ کےلیےایران کےتعاون کا یقین دلایا۔