سانحہ اے پی ایس کے 7 سال گزر گے

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پشاور اے پی ایس پر حملے کو7برس بیت گئے، جب مسلح اور شدت پسند حملہ آوروں کی فائرنگ سے اساتذہ سمیت ڈیڑھ سو پھول جیسے معصوم بچے جان سے گئے ۔

اسی دن نے پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی بنیاد رکھی اور ملک بھر میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

سولہ دسمبر 2014کو سفاک دہشت گرد صبح 11 بجے اسکول میں داخل ہوئے اور معصوم بچوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی اور بچوں کو چن چن کر قتل کیا۔

پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت بڑی قیمت چکائی ہے،ہزاروں کی تعداد میں عام شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے اس ملک کی خاطر قربانیاں دیں، ان قربانیوں کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانا چاہیے۔

سیکیورٹی فورسز کے اسکول پہنچنے تک دہشت گرد خون کی ہولی کھیلتے رہے اور کچھ ہی دیر میں ان ظالموں نے 132 معصوم جانوں سمیت 141 افراد کو شہید کردیا۔ پاکستان سمیت پوری دنیا اس سانحے کی بربریت کو دیکھ کر خون کے آنسو رو رہی تھی۔

دسری جانب آج سقوط ڈھاکا کو گزرے 50 برس بیت گئے

آج سے 50 سال قبل بھارت نے ایک مذموم سازش تیار کی اور مکتی باہنیوں کی مدد سے انیس سو اکہتر میں پاکستان کو دولخت کیا، جس کے بعد بنگلا دیش وجود میں آیا۔

بھارت نے پاکستان دشمنوں کو عسکری، مالی اور سفارتی مدد فراہم کی جس کی مدد سے دہشت گرد تنظیم مکتی باہنی نے لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا جبکہ بنگلا دیش میں موجود پاکستانیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے۔

بھارت کی مسط کردہ کی وجہ سے پاکستان قیام کے صرف چوبیس برس بعد ہی دو لخت ہوگیا۔

یاد رہے کہ سقوط ڈھاکہ میں بھارتی کردار کو اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اور موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی علی الاعلان تسلیم کرچکے ہیں۔