دہشتگردوں سے انکی زبان میں بات کی جائے

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

تحریر: ارشاد حسین ناصر

تحریک طالبان پاکستان نے ایک بار پھر حکومت سے مذاکرات ختم کرنے اور امن معاہدہ توڑنے کے اعلان کیساتھ اپنی جنگ کو جاری رکھتے ہوئے اپنی تخریبی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے، اس حوالے سے کچھ کارروائیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کے نام نہاد مجاہدین نے یہ کارروائی کی ہے۔

تحریک طالبان نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے ان کے مطالبات نہیں مانے، جو ڈیمانڈ کیا گیا تھا، اس پہ عمل نہیں کیا اور امن عمل کو آگے بڑھانے کیلئے جو باتیں طے ہوئی تھیں، ان کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ یہ مذاکرات افغان طالبان کی نگرانی میں ہو رہے تھے، جو دونوں طرف سے ضمانتی بنے ہوئے تھے۔

تحریک طالبان نے اپنے خطرناک قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بارے میڈیا میں خبریں بھی چلیں اور مذمت بھی ہوئی، مگر اب جب تحریک طالبان نے جنگ بندی معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے تو یہ الزام بھی لگایا ہے کہ ان کے قیدیوں کو رہا نہیں کیا گیا۔

ہم نے تو پہلے ہی ان مذاکرات کو ہزاروں شہداء کے خون سے غداری کہا تھا، طالبان کے ظلم کا شکار کئی فیملیز بالخصوص اے پی ایس پشاور میں شہید ہونے والے معصوم طالبعلموں کے والدین اور ان کی فیملیز نے تو سپریم کورٹ کے سامنے آکر ان مذاکرات کے خلاف اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار بھی کیا تھا۔

ایسے لوگوں سے مذاکرات جنہوں نے اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اسّی ہزار لوگوں کو بے گناہ شہید کیا اور ملک کا ایسا نقصان کیا، جس کا ازالہ برسوں نہ ہوسکے گا۔

یاد رہے کہ دہشت گردوں سے مذاکرات ماضی کی حکومتوں نے بھی کئے، بالخصوص نون لیگ نے اپنے دور حکومت میں جبکہ پیپلز پارٹی کی حلیف اور دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر جماعت اے این پی نے بھی سوات امن معاہدہ کیا تھا، جو بعد ازاں ٹوٹ گیا کہ سوات کے طالبان لیڈر ملا فضل اللہ جو حکیم اللہ محسود کے بعد طالبان کے سربراہ بھی بنائے گئے، انہوں نے معاہدہ توڑ دیا تھا۔

ہم مسلسل لکھتے آرہے ہیں کہ دہشت گرد اس ملک اور مذہب و دین کے دشمن ہیں، یہ پوری قوم کے مجرم ہیں، ان کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک ہی روا رکھا جائے۔

ایک طرف جب آپ یہ کہتے ہیں کہ دہشت گرد یا کالعدم گروہ غیر ملکی ایجنٹ ہیں، انہیں دشمن ممالک کی مدد حاصل ہے تو پھر ان سے مذاکرات کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے، پھر ان کے بارے میں نرم رویہ یا ان ان سے ہمدردی کا اظہار آپ کی حب الوطنی کو مشکوک بناتا ہے۔

لہذا یہ مذاکرات کا ڈھونگ مت رچایا جائے، یہ کسی کنفیوژ اور فیصلہ کی قوت سے عاری شخصیت کی نشاندہی کرتا ہے۔

ہم چونکہ دہشت گردی سے ڈائریکٹ متاثرہ فریق ہیں، لہذا ہم کسی بھی دور میں اس کو بھلا نہیں پاتے، جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں بلی چوہے کا کھیل کھیلنے والے اسے بھول جاتے ہیں۔

لہذا ان کا موقف بھی مختلف ہوتا رہتا ہے، جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو کچھ اور ہوتا ہے، اقتدار میں ہوں تو کچھ اور ہوتا ہے، جبکہ ہم جو متاثرہ فریق ہیں، ہمارا موقف شروع سے ایک ہی ہے کہ دہشت گردوں کو نکیل ڈالی جائے، انہیں کسی نرمی اور و رعایت کا استحقاق نا سمجھا جائے۔

دہشت گردی کا تین دہائیوں سے جاری یہ طویل سلسلہ مختلف شکلوں اور صورتوں میں ہر دور میں ہمارے حکمرانوں کے گلے کی ہڈی بنا رہا ہے۔

کبھی خودکش حملوں کی سیریز کی شکل میں تو کبھی افواج پاکستان اور فورسز پر بدترین حملوں کی صورت میں یہ سامنے آیا ہے۔ کبھی خفیہ ایجنسیز اور اداروں کے دفاتر پر شدید حملوں کی شکل میں تو کبھی عبادت گاہوں، مساجد، مدارس، مزارات پر بارود کے ڈھیر سے دہشت گردانہ حملوں کی صورت میں یہ مسئلہ سامنے رہا۔

کبھی اس مسئلہ نے مذہبی جلوسوں، ماتم، میلاد کے پروگراموں میں خودکش حملوں کی شکل اختیار کی تو کبھی علماء کرام، واعظین عظام کی ٹارگٹ کلنگ کی شکل میں ناسور بن کر سامنے آیا۔ کبھی سیاسی قائدین کو نشانہ بنا کر اس دہشت گردی نے اپنے منحوس وجود کا احساس دلوایا تو کبھی معصوم و نہتے نمازیوں اور جنازے پڑھتے مسلمانوں کو چیتھڑوں میں بدل کر یہ ظلم کمایا گیا۔

دنیا کیساتھ ساتھ ہم اہل پاکستان نے دہشت گردی، تخریب کاری، جہالت، درندگی، سفاکیت اور حیوانیت کی ہر شکل و صورت دیکھ لی ہے۔

آپ خود ہی سوچیں کہ جیتے جاگتے انسانوں کو تیز دھار خنجروں کے ساتھ اللہ اکبر کی صدا کے ساتھ ذبح کئے جانے سے بھیانک و دلدوز منظر کیا ہوسکتا ہے؟ جبکہ ہمارے لوگ، ہماری افواج کے قیمتی جوان اپنی قربانیاں اس انداز میں بھی پیش کرچکے ہیں۔

اب بھی افغانستان میں موجود داعش کے حوالے سے ایسے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جو اپنی سفاکیت کے حوالے سے ایک الگ پہچان رکھتی ہے۔

ہم یہ بات بھی بارہا کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی کا اس قدر طویل اور منظم سلسلہ آیا صرف رونے دھونے سے ختم ہوسکتا ہے؟ کیا اس منظم دہشت گردی کو صرف پالیسیاں بدلنے اور نئی پالیسیاں بنانے سے ختم کیا جا سکتا ہے؟

کیا صرف بیانات، خیالات اور سوالات سے یہ دہشت گردی ختم کی جاسکتی ہے؟ کیا بزدل، کنفیوژ اور اقتدار کے پجاری حکمران اسے ختم کرسکتے ہیں؟ کیا درندوں، وحشیوں، جنگلیوں، جاہلوں اور سفاکوں سے امن کی بھیک اور جان کی امان مانگ کر اس سے چھٹکارا ممکن ہے۔۔۔ہرگز ہرگز نہیں!

اگر ایسا ممکن ہوتا تو یہ ملک اب تک امن و ترقی کا گہوارہ بن چکا ہوتا، ماضی میں ان دہشت گردوں سے مذاکرات کے مطالبات کو پورا کرنے کیلئے سوات میں شرعی عدالتیں اور قاضی کورٹس قائم کی گئیں، پھر بھی ان لوگوں نے وطن کے سپوتوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا اور ایک کے بعد دوسرا مطالبہ دہراتے رہے۔

یہی لوگ تھے جنہوں نے ملک کے دارالخلافہ اسلام آباد میں لال مسجد کو اپنا مرکز بنایا اور اسلامی نظام نافذ کرنے اور شرعی عدالتیں قائم کرتے رہے، متوازی عدالتی نظام قائم کرنے اور لوگوں کو شرعی سزائیں دینے کے اعلان سے کون واقف نہیں، لوگوں سے کہا جا رہا تھا کہ اپنے فیصلے ان سے کروائیں، اپنے کاروبار کو ٹھیک کر لیں اور ڈنڈے کے زور پر دارالحکومت میں عوام کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔ اب پھر دارالخلافہ میں ایسے ہی مناظر دیکھے جا رہے ہیں۔

معصوم بچیوں کو جہاد کے نام پہ برین واش کیا جا رہا ہے مگر حکمرانوں میں جرات نہیں کہ اس پہ لب کشائی کر سکیں، جبکہ اس سرکاری مسجد پہ قابض ملاں آئین کو مانتا ہے نا قانون کو۔ آئے روز اس کی دھمکیاں اور دھونس کے مناظر سامنے آتے ہیں، مگر کسی کی مجال کہ سامنے آکر اس کو لگام ڈالنے کی بات کرے، جبکہ یہی باتیں اگر کسی اور مدرسہ کے مولویوں نے کہی ہوتیں تو اس کا مدرسہ بند کر دیا گیا ہوتا۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔۔۔

بہتا ہے ہمیشہ یہ نشیبوں کی طرف ہی
دریاؤں کا پانی بھی سمجھدار ہے کتنا

ہم سمجھتے ہیں کہ حکمرانوں کو ماضی سے سبق سیکھنا چاہیئے، ماضی کی طرح اب بھی دہشت گردوں کا علاج ان کا بے رحمانہ اور انہی کی طرح سفاکانہ آپریشن ہے، جس میں کسی بھی طرح کی سستی، کاہلی اور رو رعایت نہ کی جائے۔ دہشت گردوں کو ان کے سہولت کاروں، بے شک ان کا سیاسی وزن جتنا بھی بھاری ہو، انہیں خاطر میں نہ لایا جائے۔ یہ ملک دشمن دہشت گرد کسی رعایت کا استحقاق نہیں رکھتے۔