پشاور اور بنوں میں سی ٹی ڈی کی کارروائی کی کارروائی

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پولیس کی کارروائی میں مطلوب خطرناک دو اشتہاری مجرمان ہلاک ہو گئے۔

سی سی پی او عباس احسن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پشاور پولیس کی کارروائی کے دوران مقابلے میں 2 انتہائی خطرناک اور اشتہاری مجرمان ہلاک ہو گئے ہیں

رپورٹ کے مطابق دونوں دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے ہے اور پولیس مقابلے سمیت 13 قتل، اقدام قتل اور دیگر سنگین مقدمات کے علاوہ بھتہ خوری میں بھی مطلوب تھے۔

سی سی پی او عباس احسن نے بتایا کہ ملزمان کی اطلاع پر پہلے تھانہ ناصر باغ کی حدود میں کارروائی کی گئی، ناصر باغ میں چھاپے کے دوران ملزمان کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار راحت زخمی ہوا.

رپورٹ کے مطابق ملزمان ناصر باغ سے فرار ہو کر تھانہ پشتخرہ کی حدود تاج آباد قبرستان میں روپوش ہوئے تھے، اطلاع ملنے پر جیسے ہی پولیس ٹیم تاج آباد قبرستان پہنچی تو ملزمان نے دوبارہ پولیس پارٹی پہ اندھا دھند فائرنگ شروع کردی، پولیس کی جوابی فائرنگ سے دونوں ملزمان ہلاک ہو گئے۔

عباس احسن کے مطابق کارروائی کے دوران موقع سے دو پستول اور مختلف وارداتوں میں استعمال ہونے والا موٹر سائیکل تحویل میں لے لیا گیا ہے اور ملزمان کے موبائل سے ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے.

پولیس کے مطابق ڈیٹا سامنے آنے پر ان کے دیگر ساتھیوں کا بھی پیچھا کیا جائے گا، لاشوں کو پوسٹ مارٹم رپورٹ کے لئے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

سی سی پی او کا کہنا تھا کہ ملزمان نے خطرناک ہیئت اختیار کر لی تھی، بھتہ خوری سمیت قتل مقاتلہ ملزمان کا پسندیدہ مشغلہ تھا، ملزمان نے اپنے قریبی رشتے داروں کو بھی معاف نہیں کیا تھا۔

احسن عباس نے کہا کہ ملک میں بھتہ خوری سمیت کسی بھی قسم کی جرم کی کوئی گنجائش نہیں، بھتہ خوری کے خلاف منظم کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔

دسری جانب کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارنمنٹ نے بنوں میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے 2 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق بنوں ریجن میں حساس اداروں نے دہشت گردوں کی خفیہ اطلاع پر کارروائی کی جس پر وہاں موجود دہشت گردوں نے فائرنگ کردی، پولیس کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں 2 دو دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔

پولیس کے مطابق گرفتار دہشت گردوں کے قبضہ سے 2 عدد ایس ایم جی، ایک ہینڈ گرنیڈ، 3 عدد میگزین اور کارتوس سمیت دیگر سامان برآمد ہوا ہے جب کہ دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے، اس کے علاوہ دہشت گرد ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، بم دھماکوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں بھی مطلوب تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختوانخوا سے ہی پشاور پولیس کی کارروائی کے دوران مطلوب ترین دہشتگرد کو گرفتار کیا گیا تھا ،حکومت نے گرفتار دہشتگرد کی سر کی قیمت 10لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی ۔

ملزم پولیس کو دہشت گردی، پولیس پر حملے، قتل اور دیگر سنگین مقدمات میں مطلوب تھا ، جبکہ 2012 میں انقلاب چوکی پولیس ٹیم پر حملے میں بھی ملوث تھا جس میں سب انسپکٹر مرسلین خان شہید ہوئے تھے۔