سانحہ اے پی ایس : شہدا کے والدین سے ملاقات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیراعظم عمران خان نے سانحہ اے پی ایس کیس میں شہدا کے والدین سے ملاقات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ، سپریم کورٹ وزیراعظم کوشہداکے والدین کامؤقف سننےکی ہدایت کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سانحہ اےپی ایس کیس میں شہدا کے والدین سے ملاقات کیلئے کابینہ کمیٹی تشکیل دے دی ، کمیٹی میں شیریں مزاری، عمر ایوب، فہمیدہ مرزا ،صاحبزادہ محبوب سلطان شامل ہیں جبکہ اٹارنی جنرل، دفاع ،داخلہ کےایڈیشنل سیکریٹریزخصوصی دعوت پر شرکت کریں گے۔

یاد رہے سانحہ اے پی ایس کیس میں طلبی پر وزیراعظم عمران خان سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور بیان میں کہا تھا کہ قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں۔۔ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں، عدالت حکم کرے،ایکشن لیں گے، جب سانحہ ہوا تب ہماری حکومت نہیں تھی، اےپی ایس معاملے پر اعلیٰ سطح کا کمیشن بنادیں۔

جس پر سپریم کورٹ نے سانحہ اے پی ایس پر ایک اور کمیشن بنانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم کے دستخط کے ساتھ چار ہفتے میں پیش رفت رپورٹ طلب کی اور بیس اکتوبر کے فیصلے پر عمل درآمد کی ہدایت کی۔

سپریم کورٹ نے وزیراعظم کوشہدا کے والدین سے ملنے اور ان کا مؤقف سنجیدگی سے سننےکی ہدایت کی تھی۔

وفاقی حکومت نے رپورٹ جمع کرانے کے لیے مزید مہلت طلب کرلی

دسری جانب وفاقی حکومت نے سانحہ اے پی ایس کیس میں رپورٹ جمع کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے3ہفتےکی مہلت مانگ لی، عدالت نے وزیراعظم کا دستخط شدہ جواب 4ہفتے میں طلب کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ اےپی ایس کیس میں رپورٹ جمع کرانے کے لیے وفاقی حکومت نے مزید مہلت طلب کرلی، حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ سے 3ہفتے کی مہلت مانگی گئی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وزیراعظم کا دستخط شدہ جواب جمع کرانے کے لیے 3ہفتے کی مہلت دی جائے، سانحہ اے پی ایس پشاور کے شہدا کی 16 دسمبر کو برسی ہے، وزیراعظم نےشہداکے والدین سے ملاقات کیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ مناسب ہوگا والدین اور کمیٹی کی ملاقات کا نتیجہ سامنے آنے دیا جائے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا تفصیلی بیان جمع کراناچاہتاہوں، اےپی ایس کے شہد ا کےوالدین کی آج کابینہ کمیٹی سے ملاقات کرانی ہے، والدین کی با ت سن کر اس پر جواب داخل جمع کرایا جائے گا۔

اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ مہلت دی جائے تاکہ عدالت کو جامع عملدرآمد رپورٹ پیش کی جائے۔

خیال رہے عدالت کی جانب سے وزیراعظم کا دستخط شدہ جواب 4ہفتے میں طلب کیا گیا تھا اور عدالت کا دیا گیا وقت 10 دسمبر کو پورا ہو رہا ہے۔