افغان ٹرانزٹ ٹریڈ: اسمگلنگ کیلئے سرکاری مہر والی سیل کا انکشاف

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں سمگلنگ کیلئے سرکاری مہروالی مخصوص سیل اور حساس آلات کے غیر قانونی استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔

محکمہ کسٹمز سنٹرل زون نے ڈیرہ غازی خان سے واہگہ جانے والے کنٹینر پر لگے بوگس ٹریکر اور کسٹم سیل پکڑ لئے، جس میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں اسمگلنگ کیلئے سرکاری مہروالی مخصوص سیل اور حساس آلات کے غیر قانونی استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع محکمہ کسٹم نے بتایا کہ کنٹینر چمن سے واہگہ کے لئے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت لے جایا جارہا تھا، واہگہ بارڈر پر کنٹینر کو بھارتی ٹرک پر منتقل کیا جانا تھا.

رپورٹ کے مطابق کنٹینر میں بھارت کیلئے ڈرائی فروٹ کی کھیپ ظاہر کی گئی لیکن اس میں کروڑوں روپے مالیت کا سگریٹ، چھالیہ اور کیمیکل موجود تھا۔

ذرائع کے مطابق ٹریکر فراہم کرنے والی کمپنی کے دو ٹریکرز کنٹینر پر نصب جبکہ یکساں نمبر والے دو ٹریکر واہگہ میں کمپنی دفتر میں موجود ہیں، محکمہ کسٹم کے بعض اہلکاروں نے سمگلرز کو ٹرانزٹ ٹریڈ کنٹینرز پر لگائے جانے والی مخصوص کسٹم سیل فراہم کیں.

رپورٹ کے مطابق ٹریکرز اور سیل کی اسمگلرز کو فراہمی میں مبینہ طور پر کسٹم اہلکار اور نجی کمپنی کا اسٹاف شامل ہے۔

کلکٹر کسٹم ملتان عمران چوہدری نے تمام انکشافات کے حوالے سے رپورٹ ایف بی آر کو ارسال کردی ہے، جب کہ اسمگلرز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

ٹریکر فراہم کروالی کمپنی کو شوکاز نوٹس جاری کردیئے گئے ہیں، اور ٹریکرز کی اسمگلرز کے پاس موجود گیکے بارے میں وضاحت طلب کرلی گئی ہے۔