حکومت اور عوام کے رد عمل سے مطمئن ہیں: سری لنکن ہائی کمشنر

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

سری لنکن ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ وہ سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کی ہلاکت پر پاکستانی حکومت اور عوام کے رد عمل سے مطمئن ہیں۔

تفصیلات کے مطابق آ ج وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے سری لنکا ہائی کمیشن جا کر ہائی کمشنر اور وائس ایڈمرل موہن وجے کرما سے ملاقات کی، انھوں نے سیالکوٹ واقعے پر سری لنکا کے شہری پریانتھا کمارا کی ہلاکت پر تعزیت کا اظہار کیا۔

وزیر داخلہ نے واقعے پر حکومت اور عوام کی طرف سے افسوس اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا پریانتھا کمارا کی افسوسناک موت پر پاکستانی عوام سوگوار ہیں، واقعے میں ملوث مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔

شیخ رشید نے یقین دہانی کرائی کہ پریانتھا کمارا پر تشدد اور موت میں ملوث کسی شخص کو رعایت نہیں ملے گی، اور اس کی ہلاکت کے تمام مجرمان کو حکومت مثالی سزا دلائے گی۔

اس موقع پر سری لنکن ہائی کمشنر موہن وجے کرما نے کہا کہ پریانتھا کمارا کی ہلاکت پر پاکستانی حکومت اور عوام کے رد عمل پر ہم مطمئن ہیں، اور افسوس ناک حادثے پر پاکستانی عوام کے جذبات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

سری لنکن ہائی کمشنر نے واضح کیا کہ پاکستان اور سری لنکا کے مابین تعلقات دیرینہ ہیں، حالیہ واقعے سے متاثر نہیں ہوں گے۔

انھوں نے پرنتھا کمارا کی نعش سرکاری اعزاز کے ساتھ سری لنکا رخصت کرنے پر حکومت پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ سانحہ سیالکوٹ انتہائی تکلیف دہ ہے ، سری لنکن حکومت پاکستانی اقدامات سے مطمئن ہے اور سری لنکن حکومت چاہتی ہے ذمہ داروں کو سزا ملے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی کونسل آف فارن منسٹرزاجلاس اور سیالکوٹ واقعے پر بیان اپنے بیان میں کہا کہ 19دسمبر کو اسلام آباد میں او آئی سی وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوگا، اجلاس میں مختلف ممالک کےخصوصی نمائندوں کودعوت دی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کا ایجنڈا افغانستان ہے،افغان صورتحال پرفوری توجہ دینا ہوگی تاکہ انسانی بحران میں اضافہ نہ ہو۔

وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ افغانستان میں معاشی بحران پیدا ہوا تو مضراثرات مرتب ہوں گے اور اگر افغانستان کےحالات خدانخواستہ خراب ہوئےتوپوراخطہ متاثرہو گا۔

سیالکوٹ واقعے کے حوالے سے انھوں نے کہا سانحہ سیالکوٹ انتہائی تکلیف دہ ہے، کوئی معاشرہ ایسے واقعات کی اجازت نہیں دیتا، سیالکوٹ واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں118افراد کو گرفتار کیا جاچکا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی سری لنکن حکومت سے بات ہوئی ہے ، سری لنکن حکومت پاکستانی اقدامات سے مطمئن ہے اور سری لنکن حکومت چاہتی ہے ذمہ داروں کو سزا ملے ، ہماری بھی یہی کوشش ہے ذمہ داران کٹہرےمیں لائے جائیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت کے ساتھ معاشرے کو بھی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی، حکومت اور عوام دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، انتہا پسند سوچ کا ملکر مقابلہ کرنا ہوگا۔