جنوبی وزیرستان کے تمام قبائل محب وطن ہیں – کور کمانڈر پشاور

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

کور کمانڈر 11 کور پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے تمام قبائل محب وطن ہیں جنہوں نے علاقائی امن کے لئے افواج پاکستان کے ساتھ مل کر بے تحاشا قربانیاں دی ہیں

افواج پاکستان ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، جنوبی وزیرستان کی ترقی کا انحصار امن و امان کی بہتر صورتحال پر منحصر ہے کیونکہ کسی بھی معاشرہ کی ترقی میں پائیدار امن بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

دورہ وانا کے دوران احمد زئی وزیر، دوتانی اور درے محسود قبائل کے ایک بڑے گرینڈ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے سابق چیف نے کہا کہ جنوبی وزیرستان کے قبائل کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ہم سب کو مل کر کر کام کرنا ہو گ.

انہوں نے کہا کہ افواج اور قبائل کا آپس میں رشتہ بہت پرانا ہے، علاقہ میں تجارت کے فروغ کے لئے بنیادی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ قبائلی عوام کی معیار زندگیوں کو بلند کیا جا سکے۔

اس موقع پر آئی جی ایف سی ساؤتھ میجر جنرل محمد منیر، ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ شوکت بھی موجود تھے۔ گرینڈ جرگہ میں تینوں اقوام سے تعلق رکھنے والے قبائلی مشران کی کثیر تعداد نے شرکت کی

اپنے خطاب میں کور کمانڈر پشاور کا کہنا تھا کہ آج ہمارے اکٹھے ہونے کا بنیادی مقصد پائیدار امن ہے اور ہم سب امن چاہتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں پائیدار امن کی بحالی میں جہاں افواج پاکستان نے قربانیاں دی ہیں تو وہاں پر قبائلی عوام کی قربانیاں بھی اس میں شامل ہیں، کوئی بھی معاشرہ امن کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں تعلیم، صحت اور قبائلی عوام کے بنیادی مسائل کےحل کے لئے افواج پاکستان نے بہت کام کیا ہے کیونکہ 2004 سے پہلے اور آج کے وزیرستان میں بہت فرق ہے.

انہوں نے کہا کہ قبائل کے مسائل سے بخوبی واقف ہوں کیونکہ میں 2004 کے دوران جنوبی وزیرستان میں فرائض سر انجام دے چکا ہوں، جنوبی وزہرستان میں تعلمی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے افواج پاکستان کے تعاون سے بہترین تعلیمی درسگاہیں اور کیڈٹ کالج کام کر رہے ہیں

انہوں نے کہا کہ علاقوں کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ بعض بچے ایسے بھی ہیں جو ان اداروں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد افواج پاکستان میں آفیسر بن کر ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔

کور کمانڈر پشاور کے مطابق جنوبی وزیرستان کی ترقی اور خوشحالی امن سے وابستہ ہے اور اس امن کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے.

قبائلی نوجوان نسل کے بہتر اور روشن مستقبل کے لئے افواج پاکستان کا ساتھ دیں اور اپنی نوجوان نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لئے اپنا اہم کردار ادا کریں تاکہ اس علاقے کا نوجوان پڑھ لکھ کر معاشرے کا مفید شہری بن سکے۔

جنرل فیض حمید کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد امن ہے، امن قائم ہو گا تو تجارت کے مواقع بڑھیں گے، جب تجارت بڑھے گی تو علاقے میں خوشحالی سمیت معیشت مضبوط ہو گی، جو لوگ ہتھیار ڈال کر واپس آنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ بات چیت کا راستہ اپنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ انگور اڈہ سے اس پار بسنے والے پاکستانی سلیمان خیل قبیلہ کے مسائل کے حل کے لئے بھی بنیادی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، جنوبی وزہرستان میں سڑکوں کا جال نچھانے کے لئے افواج پاکستان نے بہت کام کیا ہے اور اب بھی مزید پر کام جاری ہے۔