گمشدہ افراد کا مسئلہ سالوں سے حل نہیں ہو رہا، سراج الحق

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ ناانصافی بند کی جائے، سکیورٹی کے نام پر لوگوں کی تذلیل برداشت نہیں، اپنے ہی لوگوں کی جگہ جگہ جامہ تلاشی کہاں کا انصاف ہے۔

گوادر کے رہائشی ایک ماہ سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں، گونگے بہرے حکمرانوں کو کوئی پرواہ نہیں۔ گوادر کو ملک کی ترقی کا گیٹ وے کہا جاتا ہے، مگر مقامی آبادی پینے کے پانی تک کو ترس رہی ہے۔

ساحلی علاقے میں مچھلی کا غیر قانونی شکار بند کروایا جائے۔ مقامی ماہی گیروں کا روزگار ختم ہوگیا، بچے بھوکے سوتے ہیں، باہر سے آنے والے کروڑں کما رہے ہیں۔

سرحدی تجارت پر پابندی اٹھائی جائے، حکومت کے پاس کوئی متبادل ہے تو علاقہ مکینوں سے شیئر کرے۔ حکمرانوں کو بلوچوں سے بات کرنی ہوگی، بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے۔ کوئی مائی کا لال بلوچستان کے عوام سے ان کا حق نہیں چھین سکتا۔

اُنہوں نے کہا کہ گمشدہ افراد کا مسئلہ سالوں سے حل نہیں ہو رہا، والدین اپنے پیاروں کی شکلیں دیکھنے کو ترس گئے۔ عمران خان سب سے زیادہ گم شدہ افراد کی بات کرتے تھے، مگر وزیراعظم بننے کے بعد چپ سادھ رکھی ہے۔

واضح کرنا چاہتا ہوں کہ “گوادر کو حق دو” تحریک سی پیک کے خلاف نہیں، کوئی پاگل ہی ہوگا، جو ترقی کی مخالفت کرے گا۔ سی پیک میں تعطل کی وجہ پی ٹی آئی حکومت کی نااہلی ہے۔ ملک میں اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہے، ترقی و خوش حالی اسلامی نظام کے نفاذ میں ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادر دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمن بلوچ بھی موجود تھے۔

امیر جماعت نے کہا کہ ہم پرامن لوگ ہیں، ہم دہشت گردی اور تشدد پسندانہ کارروائیوں کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔ لیکن ہم عوام کے حقوق کی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔

گوادر میں مقامی ماہی گیروں سے روزگار چھین لیا گیا۔ باہر سے بڑے ٹرکوں میں آنے والے لوگوں نے غیر قانونی شکار سے یہاں مچھلی کی نسل ختم کر دی ہے۔

بڑے جالوں سے شکار پر فوری پابندی لگائی جائے۔ علاقے میں سرحدی تجارت پر پابندی کی وجہ سے بھی لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے، حکومت پابندی ختم کرے یا کوئی متبادل پروگرام دے۔

سرکاری لوگ وہی کام کر رہے ہیں، جو مقامی لوگ نہیں کرسکتے۔ روزگار کے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ علاقے میں ہر کلومیٹر پر قائم چیک پوسٹس ختم کی جائیں۔