سابق فوجی افسروں سمیت ادریس خٹک کو جاسوسی پر قید کی سزا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

فوجی عدالت نے ایک شہری ادریس خٹک اور 3 ریٹائرڈ فوجی افسروں کو جاسوسی کے الزام میں دس سے چودہ برس قید کی سزا سنائی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چاروں افراد کیخلاف جاسوسی کے الزامات پر آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کارروائی کی گئی۔

ادریس خٹک کو 14 برس، لیفٹیننٹ کرنل (ر) فیض رسول کو 14 برس، لیفٹیننٹ کرنل (ر) اکمل کو 10 برس اور میجر (ر) سیف اللہ بابر کو 12 برس قید سخت کی سزا سنائی گئی ہے۔

ادریس خٹک جو سماجی کارکن ہونے کا دعویدار ہے، کیخلاف کورٹ مارشل کی کارروائی جہلم میں کی گئی، جبکہ سابق فوجی افسروں کیخلاف مقدمہ راولپنڈی میں چلایا گیا۔ ادریس خٹک پر بڑا الزام پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کیلئے گراؤنڈ انٹیلی جنس فراہم کرنا ہے۔

ادریس خٹک کے بھائی اویس خٹک نے بتایا کہ انہیں جمعہ کو فون کال کرکے بتایا گیا کہ انکے بھائی کو ڈسٹرکٹ جیل جہلم منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا کسی سویلین کیخلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے، معلوم ہوا کہ مخصوص حالات میں سویلین کیخلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی ہو سکتی ہے۔

قبل ازیں فروری میں پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ادریس خٹک کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلانے کیخلاف درخواست مسترد کر دی تھی۔