عالمی یوم خوراک، بھوک اور غذائی قلت کے خلاف جنگ کا اعلان

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) اور زرعی یونیورسٹی پشاور کے اشتراک سے ” عالمی یوم خوراک” کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں محکمہ زراعت، لائیو سٹاک، فشریز اور کوآپریٹو ڈپارٹمنٹ کے سیکرٹری محمد اسرار خان مہمان خصوصی تھے۔

اس موقع پر صوبائی حکومت کے عہدیداران، یونیورسٹی ڈینز، چیئرمین، اساتذہ، انتظامی افسران، طلباء اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

صوبائی کوآرڈینیٹر، ایف اے او پشاور مجیب الرحمن نے عالمی یوم خوراک کے بارے میں شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں آگاہ کیا کہ خوراک کے سلسلے میں بھوک اور غذائی قلت کے خلاف جنگ اور سب کے لئے صحت مند غذا کو یقینی بنانے کے لئے اس دن کو بطور عالمی یوم خوراک منایا جاتا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے نمائندے ڈاکٹر اعجاز حبیب نے ڈبلیو ایف پی کی طرف سے صفر بھوک کے حصول میں کی جانے والی کوششوں سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

مہمان خصوصی محمد اسرار خان نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فوڈ سیکیورٹی کے چیلنجوں پر غور، سب کے لئے اچھے معیار کی غذائیت سے متعلق خوراک کو یقینی بنانے، متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو جدید ٹیکنالوجی خاص طور پر واٹر مینجمنٹ کے شعبے میں استعمال کرنے پر توجہ دینے پر زور دیا اور کہا کہ معیاری بیج تیار کرنا، ڈرپ آبپاشی کے نظام کے ذریعہ پانی کی کمی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ موسمی تغیرات اور جی ایم او ایس کے جینیاتی طور پر نظر ثانی شدہ بیج کے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے محققین کو آگے آنا چاہئے اور خاص طور پر پلانٹ بریڈنگ اور جینیاتیات کے محکمے کے تحت معیاری تحقیقی کام کی شمولیت کے لئے رہنمائی ضروری ہے، اس سے ہمیں غذائی تحفظ کے چیلنجوں پر قابو پانے، بھوک کو مٹانے اور سب کے لئے معیاری خوراک کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور ایف او اے بہتر مستقبل کی ترجیحات پر کام کرنے کے لئے مل بیٹھیں۔

پاکستان انٹرنیشنل پبلک سکول کے طلباء نے نوجوان نسل کی نمائندگی کرتے ہوئے بھوک، غذائی قلت اور خوراک کے ضیاع کے خاتمے کے لئے اقدامات پر زور دیا۔

پی آئی پی ایس کی طالبہ وریشہ نے کہا، "اس وقت دنیا میں ترقی پذیر اور غیر ترقی پذیر ممالک کے لئے غذائیت کی کمی اور بھوک دو بڑے چیلنج ہیں، فعال اقدامات کے باوجود اربوں افراد بھوک کے خطرے میں ہیں، ہمارے اقدامات ہمارا مستقبل ہیں، دنیا کی بھوک کا خاتمہ ممکن ہے، خوراک کی حفاظت اور دیہی ترقی میں سرمایہ لگائیں۔