پریانتھا کمارا کی میّت ایئرپورٹ پہنچا دی گئی

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوئے سری لنکا کے مقتول شہری پریا نتھا کمارا کی میّت سری لنکا روانگی کیلئے اسپتال سے ایئرپورٹ پہنچا دی گئی۔

ذرائع کے مطابق میت کی منتقلی کیلئے سری لنکن سفارتخانے کے اہلکار علی الصبح اسپتال پہنچے جہاں انہوں نے پریانتھا کمارا کی میت پر پھول رکھے۔

ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق پریا نتھا کمارا کی میت کی روانگی کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب کی نمائندگی صوبائی وزیر اقلیتی امور اعجازعالم کر رہے ہیں۔

پنجاب حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ اہم میٹنگ کے باعث وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو اسلام آباد جانا پڑا۔ پریانتھا کمارا کی میت کو گزشتہ روز سیالکوٹ سے لاہور لایا گیا تھا جہاں سے آج اسے کولمبو روانہ کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ 3 روز قبل سیالکوٹ میں توہینِ مذہب کے الزام میں سیکڑوں افراد نے ایک فیکٹری کے سری لنکن منیجر کو تشدد کر کے قتل کر دیا تھا اور لاش جلا دی تھی۔

پریانتھا کمارا کو بچانےکی کوشش کرنیوالے شخص کیلئے تمغہ شجاعت کا اعلان

وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ واقعے میں سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو مشتعل ہجوم سے بچانےکی تنہا جدوجہد کرنے والے ساتھی منیجر ملک عدنان کو تمغہ شجاعت دینے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ پوری قوم کی جانب سے ملک عدنان کی بہادری اور شجاعت کو سلام پیش کرنا چاہتے ہیں، جنہوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر پریانتھا کمار کو مشتعل ہجوم سے بچانے کی کوشش کی۔

خیال رہےکہ پریانتھا کمارا کو بچانےکے لیے خود کی جان خطرے میں ڈالنے والے فیکٹری کے پروڈکشن منیجر ملک عدنان نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ وہ پریانتھا کمارا کو مشتعل ہجوم سے بچاسکیں تاہم وہ ہجوم کی درندگی کو روکنے میں ناکام رہے۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملک عدنان جان ہتھیلی پر رکھ کر پریانتھا کمارا کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

ہجوم کے تشدد کے وقت ملک عدنان نے پریانتھا کمارا کوکَور کیا ہوا تھا اور وہ خود مار کھاتے رہے اور اسے بچانےکی کوشش کر تے رہے، سوشل میڈیا پر بھی ملک عدنان کی بہادری اور انسان دوستی کے جذبے کی تعریف کی جارہی ہے۔

پریانتھا کمارا قتل کیس میں نئے انکشافات سامنے آگئے

پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کو باہر نکالنے کے بعد ملزمان نے فیکٹری کو آگ لگانے کی منصوبہ بندی بھی کی تھی۔

سیالکوٹ میں سری لنکن باشندے اور فیکٹری مینیجر پریانتھا کمارا قتل کیس میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہجوم کے پاس پیٹرول کی بوتلیں بھی تھیں اور ان کی جانب سے فیکٹری کو آگ لگانے کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔

پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پریانتھا کمارا کو قتل کرنے کے بعد ملزمان نے مینجر کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا، پولیس جب فیکٹری کے اندر داخل ہوئی تو ہجوم فیکٹری مالک پر تشدد کر رہے تھے، پولیس نے پہلے فیکٹری مالک کو ہجوم کے چنگل سے باہر نکالا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ملزمان نے سری لنکن شہری کی لاش کو باہر نکالنے کے بعد فیکٹری کو آگ لگانے کی منصوبہ بندی بھی کی تھی، ہجوم نے پولیس پارٹی پر بھی پیٹرول پھینک کر آگ لگانے کی دھمکی دی تھی، تاہم پولیس کی بھاری نفری نے فیکٹری کو آگ لگانے کی منصوبہ بندی ناکام بنا دی۔

واضح رہے کہ سیالکوٹ میں تھانہ اگوکی کے علاقہ وزیر آباد روڈ پر واقع نجی فیکٹری کے غیر ملکی مینیجر کو ملازمین نے توہین مذہب کے الزام میں قتل کرکے لاش جلادی تھی۔

سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کے قتل پر 900 افراد کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ

سیالکوٹ میں فیکٹری ملازمین کے تشدد سے سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کی ہلاکت پر تھانہ اگوکی پولیس نے دہشت گردی کا مقدمہ درج کر لیا جبکہ مرکزی ملزم فرحان ادریس کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔

900 افراد کے خلاف سب انسپکٹر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق راجکو فیکٹری کے اندر 900 کے قریب افراد ڈنڈے سوٹے لئے موجود تھے ، تمام افراد سری لنکن شخص کی لاش کو سڑک پر گھسیٹ رہے تھے، نفری ناکافی ہونے کے باعث ہجوم کو نہ روکا جا سکا۔

ایف آئی آر کے مطابق ہجوم نے لاش سڑک پر رکھ کر آگ لگا دی ، ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ ہجوم نے مذہبی توہین کے الزام میں سری لنکن شہری کو قتل کیا، ملزمان نے سری لنکن شہری کو قتل کر کے اس کی لاش کی بے حرمتی کی۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید کارروائی شروع کر دی۔

پنجاب حکومت نے واقعے کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی جس کے مطابق مرکزی ملزمان سمیت اب تک 112 ملزمان گرفتار کئے جا چکے ہیں

فیکٹری مینیجرز کی معاونت سے واقعے میں ملوث افراد کی شناخت کی گئی، ملزمان کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا اور پولیس نے مزید تحقیقات شروع کر دیں، ایسے افراد جنہوں نے اشتعال دلایا ان کو بھی گرفتار کر لیا۔

رپورٹ کے مطابق واقعہ صبح گیارہ بج کر چھبیس منٹ پر پولیس کو رپورٹ ہوا، اس وقت فیکٹری کے ورکرز سڑک پر آچُکے تھے جس کے باعث پولیس کو پہنچنے میں تاخیر ہوئی، فیکٹری کی مشین پر مذہبی حوالے سے ایک اسٹیکر لگا تھا، کچھ غیر ملکیوں نے فیکٹری کو وزٹ کرنا تھا

رپورٹ کے مطابق مینیجر نے مبینہ طور پر اسٹاف کو اس اسٹیکر کو ہٹانے کا حکم دیا، جب فیکٹری ملازمین نے اسٹیکر نہیں ہٹایا تو مینیجر نے ہٹا دیا، واقعہ کے بعد فیکٹری مالکان اور انتظامیہ غائب ہو گئی۔

پولیس نے سی سی ٹی وی ریکارڈنگ قبضے میں لے لی اور اسپیشل ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو اس فوٹیج کو دیکھ رہی ہے جس کے زریعے ملزمان تک پہنچا جارہا ہے۔

وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ واقعہ کے محرکات میں توہین مذہب کے ساتھ انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے، ذمہ داران کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی گی، اب تک کی تحقیقات سے متعلق وزیراعظم عمران خان کو ابتدائی رپورٹ بھجوا دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سیالکوٹ میں تھانہ اگوکی کے علاقہ وزیر آباد روڈ پر واقع نجی فیکٹری کے غیر ملکی مینیجر کو ملازمین نے توہین مذہب کے الزام میں قتل کرکے لاش جلادی تھی

امید ہے پاکستان سیالکوٹ واقعے کی تحقیقات کیلیے ضروری کارروائی کریگا، سری لنکا

کولمبو / اسلام آباد: سری لنکا نے سیالکوٹ کے افسوسناک واقعے پر امید ظاہر کی ہے کہ پاکستانی حکام اس واقعے کی تحقیقات کیلیے ضروری کارروائی کریں گے اور انصاف کو یقینی بنائیں گے۔

سری لنکن میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان سوگیشوارہ گونارہ ٹنا نے کہاکہ وزارت خارجہ کو سیالکو ٹ میں سری لنکا کے شہری پر مبینہ تشدد اور اس کی لاش کو جلانے کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں.

اسلام آباد میں سری لنکن ہائی کمیشن پاکستانی عہدیداروں سے واقعے کی تفصیلات کی تصدیق کے لیے رابطے میں ہے اور اس سلسلے میں کارروائی جاری ہے۔

علاوہ ازیں وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے سیالکوٹ واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بہت دلخراش واقعہ ہے، واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔

جمعہ کے روز اپنے بیان میں وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی حکومتی ادارے واقعے کی تحقیقات میں پنجاب حکومت کی معاونت کررہے ہیں.

نیشنل کرائسز سیل واقعے کے محرکات کا جائزہ لے رہا ہے،وزیر داخلہ نے کہا کہ انتہا پسندی کے واقعات کو روکنے کیلیے پورے معاشرے کو ملکر کام کرنا ہوگا۔

وزیراعظم کا سری لنکن صدر سے رابطہ

وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ واقعے پر سری لنکا کے صدر سے رابطہ کر کے انہیں ملزمان کے خلاف تمام وسائل کے ساتھ مقدمہ چلانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج متحدہ عرب امارات میں موجود سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پاکسے سے بات کی، سیالکوٹ میں پریانتھا دیوادانہ کے لرزہ خیز قتل پر پاکستانی عوام کے لوگوں کے غم و غصے اور شرمندگی کا بتایا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے سری لنکن کے صدر کو 100 سے زائد لوگوں کو گرفتار کرنے کی اطلاع دی اور یقین دہانی کرائی کہ ملزمان کے خلاف قانون کی پوری قوت کے ساتھ مقدمہ چلایا جائے گا۔