پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس آج ہو گا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

حکومت نے اپوزیش کی جانب سے عدم شرکت کے فیصلے کے باوجود آج پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا ان کیمرا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق متحدہ اپوزیشن نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرے گی۔

اس اجلاس میں مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے قومی سکیورٹی پالیسی پر پریزنٹیشن دینی ہے۔

کابینہ کے ایک سینیئر رکن نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت نے حزب اختلاف کی جماعتوں ساتھ کچھ غیر رسمی رابطے کیے تھے اور ان اسے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی تھی۔

ان کے مطابق اپوزیشن نے اپنی شرکت وزیراعظم عمران خان کی حاضری سے مشروط کی ہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے اجلاس کے لیے قائد حزب اختلاف شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور متعلقہ وزارتوں کے حکام سمیت 50 سے زائد افراد کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

اس اجلاس کا یک نکاتی ایجنڈا قومی سلامتی پالیسی پر پریزنٹیشن ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ فیصلہ اپوزیشن نے باہمی مشاورت کے بعد متفقہ طور پر کیا ہے۔

ان کے مطابق اس ان کیمرا اجلاس سے بائیکاٹ کی وجہ پارلیمان کے حالیہ مشترکہ اجلاس میں اہم بلوں کو حکومت کی جانب سے بلڈوز کرنے اور اہم آئینی، قانونی، قومی اور سکیورٹی معاملات پر حکومت کا مسلسل آمرانہ طرز عمل ہے۔

اس بارے میں جب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اپوزیشن کے فیصلہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس پر نظرثانی کی درخواست کی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ گزشتہ 70 سالوں میں یہ پہلی حکومت ہے جو پارلیمان کے سامنے اپنی قومی سلامتی پالیسی پیش کر رہی ہے۔

ان کے خیال میں اپوزیشن کو کسی ایسے معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے جو ملک کی سلامتی سے متعلق ہو۔ اس کے علاوہ متحدہ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیران فیصلہ سازی کے لیے درکار معلومات اور اختیار کے علاوہ پوشیدہ حقائق سے بھی محروم ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے مشیر خارجہ امور اور خطے کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی سلامتی پالیسی پیش کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں اس پالیسی کو منظوری کے لیے وفاق کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ حکومت سے زیادہ متحدہ اپوزیشن قومی سلامتی کے معاملے کو اہمیت دیتی ہی اس وجہ سے اپوزیشن نے ماضی میں ایسی تمام بریفنگ میں شرکت کی ہے .

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم آج تک ایسے ایک اجلاس میں بھی شریک نہیں ہوئے جبکہ یہ افسوس ناک بات ہے کہ وزیراعظم نے کورونا کے معاملے سمیت تمام اہم امور پر بلائے جانے والے اجلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔

مشترکہ اپوزیشن نے گزشتہ ہفتے جاری ہونے والے بیان میں وضاحت کی تھی کہ اپوزیشن جماعتوں نے آئینی، قومی سلامتی اور دیگر اہم معاملات کے حوالے سے بہت سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا ہے.

انہوں کہا کہ وزیراعظم کی غیر حاضری اور اہم قومی و عوامی معاملات سے ان کی مکمل لاتعلقی کے باوجود اپوزیشن نے نہ صرف قوم سلامتی پر ہونے والی گزشتہ بریفنگز میں شرکت کی بلکہ متحدہ اپوزیشن کی قیادت نے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔

اپوزیشن کے مطابق یہ بدقسمتی ہے کہ اہم داخلی اور خارجی امور پارلیمان میں بحث کے لیے نہیں لائے جاتے اور حکومت پارلیمان کو صرف ربڑ اسٹیمپ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کے حالات میں یہ ان کیمرا بریفنگ ایک حکومتی “تماشہ” ہی ہو گی جس کا ملک اور عوام کو درپیش سنجیدہ مسائل اور ان کے حل سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔