بچوں کی غیراخلاقی ویڈیوز پھیلانے والے ملزم ضمانت کے مستحق نہیں، سپریم کورٹ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

سپریم کورٹ نے چائلڈپورنوگرافی کیس میں ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلے میں کہا ہے کہ بچوں کی غیراخلاقی ویڈیوز پھیلانے والے ملزم ضمانت کے مستحق نہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے چائلڈپورنوگرافی کیس میں ملزم عمر خان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ جاری کردیا ، سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے فیصلہ تحریر کیا۔

فیصلے میں سپریم کورٹ نے ملزم عمر خان کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا بچوں کی غیراخلاقی ویڈیوز پھیلانے والے ملزم ضمانت کے مستحق نہیں اور ٹرائل کورٹ کو کیس کا جلد فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ چائلڈپورنوگرافی بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی بڑی وجہ ہے، چائلڈ پورنوگرافی معاشرے کا بڑا ناسور اور تباہی کا باعث بنتی جا رہی ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ بچوں کے مستقبل اور اخلاقیات کیلئے چائلڈ پورنوگرافی سنگین خطرہ ہے، چائلڈ پورنوگرافی کے بڑھتے خطرے کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا، چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز پھیلانا معاشرے کو کھوکھلا کرنے کا جرم ہے۔

ملزم کے وکیل کی یہ دلیل قابل قبول نہیں کہ کوئی متاثرہ فریق سامنے نہیں آیا، ملزم عمر خان پر کیس بچوں کی گندی ویڈیو پھیلانے کا ہے بنانے کا نہیں۔

خیال رہے ملزم عمر خان کی شکایت براہ راست فیس بُک انتظامیہ کی جانب سے کی گئی تھی جبکہ ملزم عمر خان کیخلاف ایف آئی اے ایبٹ آباد نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔